پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے قتل کے ایک مقدمے کی تفتیش میں مبینہ طور پر غلط شواہد تیار کرنے سے متعلق کیس میں پولیس انسپکٹر ہدایت اللہ کی اپیل منظور کرتے ہوئے ماتحت عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ انسپکٹر کو اس سے پہلے مجموعی طور پر دس سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ ہائیکورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں وہ اس مقدمے میں بری ہو گئے ہیں۔ اس خبر میں پہلے لگائے گئے الزام، ماتحت عدالت کے فیصلے اور اپیل پر آنے والے عدالتی حکم کو الگ الگ سمجھنا ضروری ہے۔

آٹھ اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والی ڈان کی رپورٹ کے مطابق جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ اور جسٹس فرح جمشید پر مشتمل دو رکنی بینچ نے انسپکٹر کی اپیل کی سماعت کی۔ مقدمے میں ایک اضافی سیشن جج نے جون 2026 کے دوران پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 193 کے تحت سات سال اور دفعہ 186(2) کے تحت تین سال قید کی سزا دی تھی۔ ان دفعات کا تعلق بالترتیب جھوٹے شواہد اور تفتیش میں مداخلت سے بتلایا گیا ہے۔

ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ اپیل کنندہ کو اپنی پسند کے وکیل کی خدمات حاصل کرنے اور مؤثر دفاع کا مناسب موقع نہیں دیا گیا تھا۔ بینچ کے مطابق فوجداری کارروائی میں منصفانہ سماعت کے لیے مناسب قانونی معاونت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ عدالت نے ماتحت عدالت کے طریقہ کار پر بھی سوال اٹھایا اور مشاہدہ کیا کہ بادی النظر میں متعلقہ جج نے ایک ہی وقت میں شکایت کنندہ، استغاثہ اور فیصلہ کرنے والے فورم کا کردار اختیار کیا، جو عدالتی غیر جانب داری کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ابتدائی کارروائی میں تفتیشی افسر کے طریقہ تفتیش پر اعتراضات سامنے آئے تھے۔ بس اڈے کے متعلقہ افراد کے بیانات ریکارڈ نہ کرنے، سی سی ٹی وی فوٹیج کو USB میں منتقل کرنے کے طریقہ کار کی وضاحت نہ ہونے اور ڈیجیٹل ریکارڈ کی فارنزک تصدیق نہ کرانے جیسے معاملات کا ذکر ہوا تھا۔ تاہم اپیل کا فیصلہ صرف ان اعتراضات کی موجودگی پر نہیں بلکہ قانونی کارروائی اور دفاع کے حقوق کا جائزہ لینے کے بعد کیا گیا۔

بینچ نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر کسی پولیس افسر پر قانونی حکم کی خلاف ورزی یا تفتیشی فرض میں کوتاہی کا الزام ہو تو اس کے خلاف مقررہ قانونی طریقہ کار اختیار کرنا ضروری ہے۔ براہِ راست سزا دینے کا اختیار قانونی تقاضوں کا متبادل نہیں بن سکتا۔ اس مقدمے کا اہم پہلو یہی ہے کہ عدالت نے الزام کے پس منظر میں بھی منصفانہ کارروائی، وکیل تک رسائی اور عدالتی غیر جانب داری کو بنیادی معیار قرار دیا۔ رپورٹ میں اس فیصلے کے بعد کسی نئی کارروائی کی تصدیق نہیں کی گئی۔