پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے شہر کی رنگ روڈ کے شمالی حصے کی تعمیر کے لیے حاصل کی گئی اراضی کے معاوضے سے متعلق مقدمے میں پشاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی اپیل جزوی طور پر منظور کر لی ہے۔ عدالت نے متعلقہ زمین کا معاوضہ آٹھ لاکھ روپے فی مرلہ سے کم کر کے چار لاکھ روپے فی مرلہ کرنے کا حکم دیا، جبکہ اراضی مالکان کی جانب سے معاوضہ بارہ لاکھ روپے فی مرلہ تک بڑھانے کی درخواست مسترد کر دی گئی۔ مقدمہ رنگ روڈ کے ایک مخصوص حصے اور وہاں کی حاصل کردہ زمین سے متعلق ہے، نہ کہ پورے شہر کی اراضی کے لیے کوئی عمومی نیا نرخ۔
آٹھ اکتوبر کو ڈان میں شائع تفصیلی فیصلے کی رپورٹ کے مطابق جسٹس محمد فہیم ولی پر مشتمل یک رکنی بینچ نے معاوضے کی نئی شرح کے ساتھ جبری حصولِ اراضی کے پندرہ فیصد اضافی چارجز اور قانون کے مطابق سالانہ چھ فیصد سادہ سود بھی برقرار رکھا۔ اراضی پشاور کے لرمہ علاقے میں رنگ روڈ کے شمالی حصے کے نامکمل رابطے کی تعمیر کے لیے حاصل کی گئی تھی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ متعلقہ اراضی کے مالکان میں منیر خان، وارث خان اور عطا اللہ شامل تھے۔ لینڈ ایکوزیشن کلیکٹر نے جنوری 2012 میں معاوضے کی ابتدائی شرح 82 ہزار 380 روپے فی مرلہ مقرر کی تھی۔ بعد میں دسمبر 2022 میں ریفری عدالت نے اس رقم میں اضافہ کر کے آٹھ لاکھ روپے فی مرلہ مقرر کیا۔ اسی فیصلے کے خلاف ترقیاتی ادارے اور زمین مالکان دونوں نے ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔
اراضی مالکان کے وکلا کا مؤقف تھا کہ زمین کی تجارتی اہمیت اور قریبی آبادیوں کے باعث زیادہ معاوضہ ملنا چاہیے۔ دوسری جانب پشاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے وکیل نے استدلال کیا کہ ترقی یافتہ قریبی علاقوں کی قیمت کو متعلقہ زرعی زمین کا براہ راست معیار بنانا درست نہیں اور آٹھ لاکھ روپے فی مرلہ کی شرح کے حق میں مناسب فروخت کا ثبوت موجود نہیں تھا۔
عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں دونوں جانب کے شواہد دیکھے۔ بینچ کے مطابق بارہ لاکھ روپے فی مرلہ کے مطالبے کی حمایت میں پیش کردہ ریکارڈ کافی نہیں تھا، لیکن ابتدائی سرکاری تشخیص بھی زمین کے مقام اور اطراف کی ترقی کے پیش نظر اس کی ممکنہ قدر کی مناسب نمائندگی نہیں کرتی تھی۔ اسی بنیاد پر عدالت نے درمیان کی نئی شرح مقرر کی۔ اس فیصلے سے واضح ہوتا ہے کہ زمین کے حصول کے معاملات میں معاوضے کی تعیین کے لیے مقام، نوعیت، دستیاب ثبوت اور قانونی اضافی واجبات کا الگ الگ جائزہ ضروری ہے۔
