اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت کے بلدیاتی نظام میں نئی تقسیم کے تحت اسلام آباد کو تین میونسپل ٹاؤن کونسلوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ نئے انتظامی ڈھانچے کے مطابق شہر میں اب تین میئر اور چھ ڈپٹی میئر ہوں گے جبکہ تینوں ٹاؤنز میں یونین کونسلوں کی مجموعی تعداد بڑھا کر 130 کر دی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق نئی بلدیاتی اکائیوں کو میونسپل ٹاؤن کونسل ون، میونسپل ٹاؤن کونسل ٹو اور میونسپل ٹاؤن کونسل تھری کے نام دیے گئے ہیں۔ پہلی کونسل میں 43 یونین کونسلیں، دوسری میں 45 اور تیسری میں 42 یونین کونسلیں شامل ہوں گی۔ اس تقسیم کا مقصد وفاقی دارالحکومت کی بڑھتی ہوئی آبادی اور شہری و دیہی علاقوں کی انتظامی ضروریات کے مطابق بلدیاتی نمائندگی کو نئے انداز میں منظم کرنا بتایا گیا ہے۔
اسلام آباد کا بلدیاتی نظام کئی برسوں سے قانونی ترامیم، حلقہ بندیوں، یونین کونسلوں کی تعداد اور انتخابات کے شیڈول سے متعلق تبدیلیوں کا سامنا کرتا رہا ہے۔ یونین کونسل بنیادی بلدیاتی انتخابی اور انتظامی اکائی ہوتی ہے، جہاں سے مقامی نمائندے منتخب ہو کر ٹاؤن اور شہر کی سطح کے اداروں میں حصہ لیتے ہیں۔ نئی تقسیم کے بعد آئندہ بلدیاتی انتخابات اور انتظامی ذمہ داریوں کو تین الگ ٹاؤن کونسلوں کے مطابق ترتیب دینا ہوگا۔
تین میئر اور چھ ڈپٹی میئر رکھنے کا نظام ایک مرکزی میٹروپولیٹن قیادت کے بجائے اختیارات کو متعدد شہری اکائیوں میں تقسیم کرے گا۔ اس سے صفائی، مقامی سڑکوں، پارکس، بازاروں، شہری سہولتوں اور دیگر بلدیاتی خدمات کی نگرانی مختلف ٹاؤن اداروں کے ذریعے کی جا سکتی ہے، تاہم اختیارات کی اصل تقسیم متعلقہ قانون، قواعد اور وفاقی اداروں کے ساتھ انتظامی تعلق سے طے ہوگی۔
اسلام آباد میں کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور بلدیاتی اداروں کے اختیارات کا باہمی تعلق ماضی میں بھی اہم انتظامی مسئلہ رہا ہے۔ نئے ڈھانچے کی کامیابی کا انحصار واضح ذمہ داریوں، مالی وسائل، منتخب نمائندوں کے اختیارات اور وفاقی اداروں کے ساتھ موثر رابطے پر ہوگا۔ آئندہ انتخابی اور انتظامی نوٹیفکیشن اس بات کو مزید واضح کریں گے کہ تینوں ٹاؤن کونسلیں عملی طور پر کس طرح کام کریں گی۔

