اسلام آباد ٹریفک پولیس، آئی ٹی پی، نے کہا ہے کہ اس کی موبائل سہولت وینز نے رواں سال 2026 میں اب تک وفاقی دارالحکومت کے مختلف علاقوں میں 7 ہزار سے زائد شہریوں کو ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق خدمات فراہم کی ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کی 5 ستمبر کی رپورٹ کے مطابق ان وینز کا مقصد شہریوں کو لرنر پرمٹ، لائسنس کی تجدید اور بعض دوسری سہولتیں ان کے رہائشی یا کام کے مقامات کے قریب فراہم کرنا ہے۔

آئی ٹی پی کی کارکردگی رپورٹ کے مطابق 2 ہزار 900 سے زیادہ شہریوں نے موبائل وینز کے ذریعے لرنر پرمٹ حاصل کیے۔ 2 ہزار سے زائد افراد کو موجودہ ڈرائیونگ لائسنس کی تجدید کی سہولت دی گئی، جبکہ 200 سے زیادہ ڈپلیکیٹ لائسنس جاری کیے گئے۔ مزید برآں، ایک ہزار 700 سے زیادہ ڈرائیونگ ٹیسٹ فارم بھی ان وینز کے ذریعے فراہم کیے گئے۔

یہ اعداد مختلف خدمات کے مجموعی استعمال کی تصویر پیش کرتے ہیں، لیکن APP کی رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کسی ایک شہری نے ایک سے زیادہ خدمات حاصل کیں یا ہر اندراج الگ فرد کی نمائندگی کرتا ہے۔ اسی طرح علاقے وار، ماہ وار یا مرد و خواتین کی الگ تعداد بھی جاری نہیں کی گئی۔ اس لیے 7 ہزار سے زائد کا عدد سہولت کے مجموعی دائرے کو ظاہر کرتا ہے، نہ کہ لازماً اتنے منفرد نئے لائسنس جاری ہونے کو۔

موبائل سہولت وینز روایتی لائسنسنگ دفاتر کے متبادل کے بجائے اضافی رسائی کا ذریعہ ہیں۔ لرنر پرمٹ جاری ہونا مستقل ڈرائیونگ لائسنس کے برابر نہیں؛ مستقل لائسنس کے لیے مقررہ انتظار، نظریاتی یا عملی ٹیسٹ، طبی یا شناختی تقاضے اور فیس سمیت متعلقہ قانونی مراحل مکمل کرنا ہوتے ہیں۔ اسی طرح تجدید یا ڈپلیکیٹ لائسنس کی درخواست بھی ریکارڈ کی تصدیق اور قواعد کے مطابق منظور ہوتی ہے۔

چیف ٹریفک آفیسر کائنات اظہر خان نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ گاڑی یا موٹر سائیکل چلانے سے پہلے درست اور قابلِ عمل ڈرائیونگ لائسنس حاصل کریں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ بغیر لائسنس گاڑی چلانا قانون کی خلاف ورزی ہے۔ آئی ٹی پی کے مطابق موبائل سروس کا مقصد قانونی تعمیل آسان بنانا اور شہریوں کو صرف مرکزی دفاتر تک سفر کی ضرورت کم کرنا ہے۔

موبائل وین کے عملی فائدے کا انحصار اس کے شیڈول، مقام کی پیشگی اطلاع، مطلوبہ دستاویزات، فیس کی شفاف وصولی اور درخواست کی مرکزی ڈیٹا بیس سے فوری تصدیق پر ہوگا۔ رپورٹ میں وینز کی کل تعداد، روزانہ شیڈول، مخصوص روٹس یا خدمات حاصل کرنے کا پیشگی طریقہ درج نہیں تھا۔ شہریوں کو کسی مقام پر جانے سے پہلے آئی ٹی پی کے سرکاری اعلانات یا ہیلپ لائن سے تازہ شیڈول کی تصدیق کرنی چاہیے۔

لائسنسنگ خدمات گھر یا محلے کے قریب پہنچانے سے بزرگ افراد، ملازمت پیشہ شہریوں اور دور دراز سیکٹرز میں رہنے والوں کے لیے وقت اور سفر کی لاگت کم ہوسکتی ہے۔ تاہم سہولت کی رفتار کے ساتھ شناختی جانچ، بایومیٹرک یا ڈیجیٹل ریکارڈ کی درستگی اور ٹیسٹ کے معیار کو برقرار رکھنا بھی ضروری ہے تاکہ آسانی سڑک کی حفاظت کے تقاضوں پر اثر انداز نہ ہو۔

آئی ٹی پی نے بروقت، شفاف اور سہل شہری خدمات کو اپنی ترجیح قرار دیا ہے۔ اس دعوے کی وسیع جانچ کے لیے آئندہ انتظار کے وقت، درخواست مسترد ہونے کی وجوہ، شکایات، علاقائی کوریج اور مکمل لائسنس تک پہنچنے والے افراد کے اعداد مفید ہوں گے۔ موجودہ رپورٹ صرف فراہم کردہ خدمات کی مجموعی تعداد بیان کرتی ہے۔

فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت رواں سال میں 7 ہزار سے زائد موبائل خدمات، 2 ہزار 900 سے زیادہ لرنر پرمٹس، 2 ہزار سے زائد تجدیدات، 200 سے زیادہ ڈپلیکیٹ لائسنس اور ایک ہزار 700 سے زائد ٹیسٹ فارم ہیں۔ سال ابھی جاری ہے، اس لیے یہ پورے 2026 کے حتمی اعداد نہیں۔