اسلام آباد میں مارکۂ حق 2025 کی یاد میں تعمیر کی گئی یادگارِ فتح کو خصوصی تقریب کے بعد عام شہریوں کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ تقریب وزارت اطلاعات و نشریات اور کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے مشترکہ طور پر منعقد کی، جس میں سرکاری حکام، مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد اور نمایاں کارکردگی دکھانے والے نوجوان شریک ہوئے۔

سرکاری ریڈیو پاکستان کے مطابق 220 فٹ بلند یادگار کو ملک کے شہدا کی قربانیوں اور 2025 کے مارکۂ حق کی یاد میں تعمیر کیا گیا ہے۔ افتتاحی تقریب میں یادگار پر تھری ڈی پروجیکشن میپنگ اور روشنیوں کا خصوصی مظاہرہ کیا گیا، جس میں پاکستان کی مسلح افواج اور عوام کے کردار کو اجاگر کیا گیا۔ تقریب میں قومی نغموں اور موسیقی کے پروگرام بھی شامل تھے۔

ایکسپریس ٹریبیون اور سرکاری ذرائع کے مطابق یادگار منگل سے اتوار تک شام 5 بجے سے رات 10 بجے تک عوام کے لیے کھلی رہے گی۔ داخلہ مفت ہوگا، تاہم شہریوں کو آن لائن مفت ٹکٹ حاصل کرنا ہوگا۔ پیر کے روز یادگار بند رہے گی۔ افتتاح کے موقع پر لوگوں کی بڑی تعداد نے مقام کا رخ کیا، جبکہ انتظامیہ نے شہریوں کے لیے مخصوص اوقات اور داخلے کے طریقہ کار کا اعلان کیا ہے۔

وفاقی سیکریٹری اطلاعات اشفاق احمد خلیل نے تقریب میں یادگار کو قومی عزم، اتحاد اور قربانی کی علامت قرار دیا۔ سرکاری بیانات میں مارکۂ حق کی کامیابی اور شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ یہ بیانات ریاستی مؤقف کی عکاسی کرتے ہیں؛ یادگار کا بنیادی مقصد اسی سرکاری بیانیے اور یادگاری تصور کو مستقل عوامی مقام کی صورت دینا ہے۔

یادگار کے افتتاح کے ساتھ وفاقی دارالحکومت میں ایک نیا عوامی اور یادگاری مقام شامل ہو گیا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق مفت ٹکٹنگ کا نظام ہجوم کو منظم رکھنے اور مقررہ اوقات میں شہریوں کی رسائی آسان بنانے کے لیے استعمال ہوگا۔