الخلیل: مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں دو اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد اسرائیلی فوج نے وسیع پیمانے پر بندشیں نافذ کرتے ہوئے شہر کے کئی داخلی راستوں اور سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت روک دی ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ اقدامات فلسطینی مسلح افراد کے حملے کے بعد کیے گئے، جس کے نتیجے میں علاقے میں نقل و حرکت شدید متاثر ہوئی۔

مقامی فلسطینی ذرائع کے مطابق الخلیل کے مختلف داخلی راستوں پر فوجی گیٹس بند کیے گئے اور شہریوں کو بعض مقامات پر پیدل گزرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ فلسطینی خبر رساں ادارے وفا نے رپورٹ کیا کہ اسرائیلی فورسز نے متعدد رہائشیوں کو گھروں سے نکلنے کا کہا اور تلاشی کی کارروائیاں شروع کیں۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق سینکڑوں خاندان عارضی طور پر متاثر ہوئے، تاہم انخلا کی درست تعداد کی آزادانہ تصدیق فوری طور پر ممکن نہیں تھی۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ کارروائی کا مقصد حملہ آوروں سے متعلق علاقے کی چھان بین اور مزید حملوں کو روکنا ہے۔ ایک روز قبل ہونے والے حملے میں دو اسرائیلی فوجی مارے گئے تھے اور دیگر اہلکار زخمی ہوئے تھے۔ فوج نے اس واقعے کے بعد الخلیل اور گردونواح میں سکیورٹی کارروائی کئی روز تک جاری رہنے کا عندیہ دیا تھا۔

مقبوضہ مغربی کنارے میں حالیہ برسوں کے دوران اسرائیلی فوجی کارروائیوں، فلسطینی حملوں اور آبادکاروں کے تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں بارہا خبردار کر چکی ہیں کہ وسیع بندشیں اور اجتماعی نقل و حرکت کی پابندیاں عام شہریوں کی روزمرہ زندگی، علاج، تعلیم اور روزگار تک رسائی پر براہ راست اثر ڈالتی ہیں۔ اسرائیل ایسے اقدامات کو سکیورٹی ضروریات سے جوڑتا ہے۔

تازہ کارروائی ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب خطے میں غزہ، ایران اور دیگر محاذوں سے متعلق کشیدگی بھی برقرار ہے۔ الخلیل میں بندشوں کی مدت اور بے گھر یا متاثر ہونے والے خاندانوں کی حتمی تعداد ابھی واضح نہیں، جبکہ صورتحال میں تبدیلی کے ساتھ مزید سرکاری اور مقامی تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔