واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ جاری جنگ کو بہت جلد ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، لیکن ان کی انتظامیہ اس سوال پر غور کر رہی ہے کہ آیا تنازع کو فوری طور پر ختم کیا جائے یا اسے بتدریج مدھم ہونے دیا جائے۔ انہوں نے یہ بات وائٹ ہاؤس سے فلوریڈا روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو میں کہی۔
رائٹرز کے مطابق ٹرمپ نے جنگ کے ممکنہ اختتام کے لیے کوئی تفصیلی منصوبہ، شرائط یا ٹائم لائن بیان نہیں کی۔ ان کے الفاظ سے یہ اشارہ ملا کہ واشنگٹن مختلف فوجی اور سفارتی آپشنز کا جائزہ لے رہا ہے، لیکن فوری جنگ بندی یا نئے فوجی اقدام سے متعلق کوئی حتمی اعلان نہیں کیا گیا۔ اس لیے صدر کے بیان کو پالیسی فیصلے کے بجائے جاری غور و خوض کا اظہار سمجھا جا رہا ہے۔
ٹرمپ نے آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ تیل اس اہم سمندری راستے سے باہر آ رہا ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی تجارت کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے اور ایران جنگ کے دوران جہاز رانی، انشورنس اور خام تیل کی قیمتوں سے متعلق خدشات عالمی منڈیوں پر اثر انداز ہوتے رہے ہیں۔
صدر نے دعویٰ کیا کہ امریکا اپنے مطلوبہ اہداف حاصل کر رہا ہے، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے تہران سے کن شرائط پر سمجھوتہ قابل قبول ہوگا۔ دوسری جانب ترکی اور یورپی ممالک سمیت کئی ریاستیں سفارت کاری کے ذریعے کشیدگی کم کرنے پر زور دے رہی ہیں اور خبردار کر رہی ہیں کہ نئی فوجی شدت خطے اور عالمی توانائی منڈی کے لیے خطرات بڑھا سکتی ہے۔
ٹرمپ کا تازہ بیان امریکی وسط مدتی انتخابات سے چند روز قبل سامنے آیا ہے، جب توانائی کی قیمتیں اور ایران جنگ امریکی داخلی سیاست میں بھی اہم موضوع بن چکے ہیں۔ جنگ کے خاتمے کی سمت کا انحصار آئندہ امریکی فیصلوں، ایرانی ردعمل اور جاری علاقائی سفارتی کوششوں پر ہوگا۔ فی الحال کسی باضابطہ امن معاہدے یا جامع جنگ بندی کی تصدیق نہیں ہوئی۔
