نیویارک: پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں افغانستان سے پیدا ہونے والے دہشت گردی کے خطرات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے عالمی برادری اور افغان حکام سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستانی نمائندے نے کہا کہ دہشت گرد تنظیموں کو افغان سرزمین سے ہمسایہ ممالک کے خلاف کارروائیوں کی منصوبہ بندی یا معاونت کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

پاکستان نے بالخصوص تحریک طالبان پاکستان سے لاحق خطرے کا حوالہ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ سرحد پار دہشت گردی ملک کی سلامتی کے لیے سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی اور اس سے وابستہ عناصر افغانستان میں موجود ٹھکانوں سے پاکستان کے خلاف حملوں میں ملوث ہیں۔ افغان حکام ماضی میں ایسے الزامات کی تردید کرتے یا یہ کہتے رہے ہیں کہ افغان سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔

سلامتی کونسل میں پاکستانی مؤقف میں اس بات پر زور دیا گیا کہ افغانستان میں امن و استحکام خطے کے تمام ممالک کے مفاد میں ہے اور دہشت گرد گروہوں کے خلاف قابل تصدیق کارروائی اس مقصد کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ پاکستان نے یہ بھی واضح کیا کہ دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کے ساتھ افغان عوام کی انسانی اور معاشی ضروریات کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

اسلام آباد طویل عرصے سے عالمی فورمز پر یہ مطالبہ کرتا آیا ہے کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد تنظیموں کی مالی معاونت، بھرتی، نقل و حرکت اور ہتھیاروں تک رسائی روکی جائے۔ پاکستان میں حالیہ برسوں کے دوران سکیورٹی فورسز، پولیس اور شہریوں پر حملوں میں اضافے نے اس معاملے کو خارجہ اور قومی سلامتی پالیسی میں مزید اہم بنا دیا ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان اس مسئلے پر اختلافات برقرار ہیں۔ کسی مخصوص حملے یا گروہ کی ذمہ داری کا تعین شواہد اور متعلقہ تحقیقات سے ہوتا ہے، اس لیے پاکستان کے پیش کردہ الزامات کو اس کے سرکاری مؤقف کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ سلامتی کونسل میں تازہ مطالبے کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ افغان سرزمین کو بین الاقوامی اور سرحد پار دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کے وعدوں پر عملی اور قابل اعتماد پیش رفت ہونی چاہیے۔