نیویارک: پاکستان نے اقوام متحدہ میں فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے کام کرنے والے ادارے انروا کی مسلسل اور مؤثر معاونت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ میں جاری انسانی بحران کے دوران امدادی اداروں کی سرگرمیوں میں رکاوٹ لاکھوں متاثرہ شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کرسکتی ہے۔ پاکستانی نمائندے نے عالمی برادری سے ادارے کے لیے قابل اعتماد مالی وسائل اور انسانی امداد کی محفوظ رسائی یقینی بنانے کی اپیل کی۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق انروا فلسطینی پناہ گزینوں کو تعلیم، صحت، خوراک اور دیگر بنیادی خدمات فراہم کرنے والے اہم اداروں میں شامل ہے۔ غزہ میں بڑے پیمانے پر نقل مکانی اور بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کے باعث امدادی نظام پر دباؤ بڑھا ہے، جس کے نتیجے میں اقوام متحدہ اور دیگر انسانی تنظیموں کی رسائی اور وسائل کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
پاکستان نے بین الاقوامی انسانی قانون کے احترام، شہریوں کے تحفظ اور ضرورت مند آبادی تک امداد پہنچانے کے لیے محفوظ اور مؤثر راستوں کی فراہمی کا مطالبہ بھی دہرایا۔ اسلام آباد طویل عرصے سے فلسطینیوں کے حق خود ارادیت اور دو ریاستی حل کی حمایت کرتا آیا ہے اور غزہ میں جنگ بندی اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی کے مطالبات بین الاقوامی فورمز پر اٹھاتا رہا ہے۔
انروا کے کردار اور مالی وسائل کا معاملہ حالیہ برسوں میں عالمی سفارت کاری کا اہم موضوع بنا ہے۔ مختلف ممالک نے ادارے کے کام، نگرانی اور مالی معاونت سے متعلق الگ الگ پالیسی فیصلے کیے ہیں، جبکہ اقوام متحدہ نے بارہا خبردار کیا ہے کہ فلسطینی علاقوں میں بڑے پیمانے پر انسانی ضروریات کے باعث امدادی نظام کو مستحکم وسائل درکار ہیں۔
پاکستان کے تازہ بیان میں بنیادی توجہ انسانی ضرورت اور امدادی تسلسل پر رکھی گئی ہے۔ کسی بھی امدادی ادارے کے آپریشنز کا عملی دائرہ سکیورٹی حالات، سرحدی رسائی، فنڈنگ اور متعلقہ فریقوں کے فیصلوں سے متاثر ہوتا ہے۔ اسلام آباد نے عالمی برادری سے کہا ہے کہ سیاسی اختلافات سے قطع نظر شہری آبادی کی بنیادی ضروریات اور بین الاقوامی انسانی ذمہ داریوں کو ترجیح دی جائے۔
