اسٹاک ہوم: پاکستان کی انسانی حقوق کی وکیل جلیلہ حیدر کو 2026 کا رائٹ لائیولی ہڈ ایوارڈ دیا گیا ہے، جسے عمومی طور پر متبادل نوبیل انعام بھی کہا جاتا ہے۔ سویڈن میں قائم رائٹ لائیولی ہڈ فاؤنڈیشن نے جلیلہ حیدر کے ساتھ امریکی مصنوعی ذہانت کی محقق ٹم نٹ گیبرو اور دو خواتین کی قیادت والی حقوق کی تنظیموں کو بھی اس سال کے اعزازات کے لیے منتخب کیا۔
جیو نیوز پر شائع اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق فاؤنڈیشن نے جلیلہ حیدر کو اپنی ہزارہ برادری کی پہلی خاتون وکیل کے طور پر رکاوٹیں توڑنے اور نسلی، ریاستی اور پدرشاہی جبر کے خلاف انسانی حقوق کی وکالت کے اعتراف میں منتخب کیا۔ جلیلہ حیدر طویل عرصے سے بلوچستان میں ہزارہ برادری، خواتین اور پسماندہ گروہوں کے حقوق کے لیے قانونی اور سماجی سطح پر کام کرتی رہی ہیں۔
فاؤنڈیشن نے اس سال امریکی محقق ٹم نٹ گیبرو کو مصنوعی ذہانت میں طاقت کے ارتکاز کو چیلنج کرنے اور ٹیکنالوجی کے سماجی اثرات پر تحقیق کے لیے بھی اعزاز دیا۔ گیبرو نے 2017 میں بلیک اِن اے آئی کی مشترکہ بنیاد رکھی اور بڑے زبان ماڈلز میں تعصب اور خطرات سے متعلق تحقیقی کام کے باعث عالمی سطح پر پہچان حاصل کی۔
دیگر اعزاز یافتگان میں جنوبی افریقہ کے 11 ممالک میں سرگرم رورل ویمنز اسمبلی بھی شامل ہے، جس کے ساتھ ایک لاکھ 78 ہزار سے زیادہ چھوٹے پیمانے کے کسان وابستہ ہیں۔ فاؤنڈیشن نے جارجین ینگ لائرز ایسوسی ایشن کو بھی انسانی حقوق، قانون اور شہری آزادیوں کے لیے خدمات پر منتخب کیا۔
رائٹ لائیولی ہڈ ایوارڈ ایک آزاد بین الاقوامی اعزاز ہے اور نوبیل انعامات کا باضابطہ حصہ نہیں ہے، اگرچہ اسے کئی دہائیوں سے غیر رسمی طور پر متبادل نوبیل کہا جاتا ہے۔ جلیلہ حیدر کی نامزدگی اور انتخاب پاکستان کے انسانی حقوق کے حلقوں کے لیے ایک نمایاں بین الاقوامی اعتراف ہے، تاہم فاؤنڈیشن کا فیصلہ اس کے اپنے جیوری عمل پر مبنی ہے۔
