ہانگ کانگ میں 12 ستمبر 2026 کو بیلٹ اینڈ روڈ سمٹ کے موقع پر وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے سری لنکا، بنگلہ دیش اور قطر کے وزارتی نمائندوں سے الگ الگ ملاقاتیں کیں جن میں دوطرفہ تجارت، علاقائی رابطوں، غذائی تحفظ، صنعت، ڈیجیٹلائزیشن اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سرکاری اعلامیے کے مطابق وزیر تجارت نے انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار میڈی ایشن کی سیکریٹری جنرل تیریسا چان سے بھی ملاقات کی۔
سری لنکا کے وزیر تجارت، کامرس، فوڈ سکیورٹی اینڈ ڈیولپمنٹ وسنتھا سماراسنگھے کے ساتھ گفتگو میں پاکستان اور سری لنکا کے آزاد تجارتی معاہدے کے زیادہ مؤثر استعمال اور دوطرفہ تجارت کے دائرے کو وسیع کرنے پر زور دیا گیا۔ دونوں جانب سے کاروباری اور عوامی روابط بڑھانے، رابطہ کاری اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں تعاون کے امکانات بھی زیر بحث آئے۔ سری لنکن وزیر نے مصنوعی ذہانت اور سائبر سکیورٹی کی بڑھتی اہمیت کی نشاندہی کی، جبکہ جام کمال خان نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کو ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز سے فائدہ اٹھانے کے ساتھ ان سے جڑے خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت بھی پیدا کرنا ہوگی۔
بنگلہ دیش کے وزیر تجارت، صنعت، ٹیکسٹائل اور جوٹ خندکار عبدالمقتدر کے ساتھ ملاقات میں دونوں ملکوں نے اقتصادی تعاون اور علاقائی روابط بڑھانے پر آمادگی ظاہر کی۔ پاکستانی وزیر نے چاول کی برآمدات کو باہمی تجارت میں پیش رفت کی مثال قرار دیا اور ٹیکسٹائل سمیت دیگر شعبوں میں تجارت کو متنوع بنانے کی گنجائش کی نشاندہی کی۔ بنگلہ دیشی فریق نے صنعتی ترقی کے تجربات اور مہارت کے تبادلے میں دلچسپی ظاہر کی۔ دونوں وزرا نے موسمیاتی تبدیلی، غذائی تحفظ، سائبر خطرات اور مصنوعی ذہانت جیسے مشترکہ چیلنجز پر بھی گفتگو کی۔
قطر کے وزیر مملکت برائے خارجہ تجارت احمد بن محمد السید کے ساتھ ملاقات میں مشرق وسطیٰ کی تازہ صورتحال، علاقائی امن، ٹرانزٹ روٹس اور تجارت کے نئے راستوں پر بات ہوئی۔ دونوں جانب سے پاکستان اور قطر کو مشرق وسطیٰ، وسطی ایشیا، ترکیہ اور یورپ تک وسیع تر تجارتی راہداریوں سے جوڑنے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا اور دوطرفہ تجارت بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
جام کمال خان نے انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار میڈی ایشن کی سیکریٹری جنرل سے ملاقات میں حکومتوں اور نجی اداروں کے درمیان تنازعات کے پرامن اور ادارہ جاتی حل میں میڈی ایشن کے کردار پر بھی بات کی۔ سرکاری اعلامیے کے مطابق پاکستان اس تنظیم کا بانی اور معاہدہ کرنے والا رکن ہے۔ مجموعی طور پر ان ملاقاتوں کو حکومت نے اقتصادی سفارت کاری اور علاقائی رابطہ کاری کو وسعت دینے کی کوششوں کا حصہ قرار دیا ہے۔




