وفاقی حکومت نے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت 5 روپے 2 پیسے اضافے کے بعد 375 روپے 82 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 5 روپے 28 پیسے مہنگا ہو کر 403 روپے 32 پیسے فی لیٹر ہو گیا ہے۔ نئی قیمتیں 12 ستمبر 2026 سے نافذ ہوئی ہیں اور 14 ستمبر تک برقرار رہیں گی۔

اس سے ایک روز پہلے پیٹرول 370.80 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 398.04 روپے فی لیٹر تھا۔ تازہ فیصلے کے بعد ڈیزل کی قیمت 400 روپے فی لیٹر کی سطح سے اوپر چلی گئی ہے۔ حکومت نے حالیہ عرصے میں بین الاقوامی منڈی میں شدید اتار چڑھاؤ کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے لیے نسبتاً مختصر وقفوں پر نظرثانی کا طریقہ اختیار کیا ہے۔

بزنس ریکارڈر کے مطابق آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی نے عالمی ریفائنڈ مصنوعات کے نرخ، پلیٹس عرب گلف کی اوسط قیمت، پریمیم اور دیگر متعلقہ اخراجات کو بنیاد بنا کر نئی قیمتوں کا حساب کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حالیہ تبدیلی کا بڑا حصہ ایکس ریفائنری قیمت میں اضافے سے آیا، جبکہ سرکاری لیویز اور مقررہ منافع کے متعدد اجزا بڑی حد تک برقرار رہے۔ پیٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت 260.35 روپے سے بڑھ کر 265.36 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی 291.17 روپے سے بڑھ کر 296.45 روپے فی لیٹر بتائی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل دونوں پر 80 روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی اور 5 روپے فی لیٹر کلائمیٹ سپورٹ لیوی عائد ہے۔ ڈیلرز اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے لیے مقررہ مارجن بھی قیمت کے ڈھانچے کا حصہ ہیں۔ پیٹرول پر کسٹمز ڈیوٹی 21.15 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 15.68 روپے فی لیٹر بتائی گئی، جبکہ ان لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن دونوں مصنوعات کے لیے الگ سطح پر ایڈجسٹ کیا گیا ہے۔

حالیہ دنوں میں مشرق وسطیٰ کی کشیدگی اور عالمی تیل و ریفائنڈ مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے نے پاکستان جیسے درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والے ملک کے لیے لاگت کا دباؤ بڑھایا ہے۔ ڈیزل کی قیمت میں اضافہ خاص طور پر مال برداری، پبلک ٹرانسپورٹ اور زرعی سرگرمیوں کی لاگت پر اثر ڈال سکتا ہے، جبکہ پیٹرول مہنگا ہونے سے نجی ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھتے ہیں۔

نئی قیمتیں فی الحال 14 ستمبر تک نافذ ہیں، اس لیے انہیں طویل مدت کے لیے مقررہ نرخ نہیں سمجھا جا سکتا۔ اگلی نظرثانی میں عالمی قیمتوں، شرح مبادلہ اور حکومتی قیمت سازی کے فارمولے کے مطابق مزید تبدیلی ممکن ہے۔