لاہور: جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی کے خلاف جاری احتجاج کو اگلے مرحلے میں لے جانے کا اعلان کرتے ہوئے 12 ربیع الاول کے بعد ملک گیر شٹر ڈاؤن اور اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا عندیہ دیا ہے۔ ایکسپریس اردو کی رپورٹ کے مطابق کراچی، لاہور اور پشاور میں جماعت اسلامی کے دھرنے اتوار کو آٹھویں روز بھی جاری رہے۔
اردو ہیڈلائنز ڈیسک کے مطابق امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پیٹرولیم لیوی کے خاتمے تک موجودہ دھرنے جاری رکھے جائیں گے۔ انہوں نے شہریوں سے لاہور میں رات کے جلسے میں شرکت کی اپیل بھی کی اور کہا کہ جماعت اسلامی اپنی احتجاجی مہم کو فیصلہ کن مرحلے تک لے جانا چاہتی ہے۔
حافظ نعیم الرحمان کے مطابق کراچی، لاہور اور پشاور کے تینوں دھرنے اپنی جگہ برقرار رہیں گے جبکہ مختلف شہروں میں مزید احتجاجی کیمپ قائم کیے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ 11 اور 12 ربیع الاول کی رات دھرنوں کے مقامات پر محافل میلاد اور سیرت کانفرنسیں منعقد کرنے کا پروگرام بھی ہے، جس کے بعد شٹر ڈاؤن اور وفاقی دارالحکومت کی جانب لانگ مارچ کی تیاری کی جائے گی۔
پریس کانفرنس میں جماعت اسلامی کے امیر نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور مقامی ڈیزل کی فروخت کے طریقہ کار پر بھی اعتراضات اٹھائے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مقامی سطح پر تیار ہونے والا ڈیزل درآمدی قیمت کے مطابق فروخت کیا جا رہا ہے اور اس صورت حال سے بعض کاروباری حلقے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ یہ جماعت اسلامی کے سربراہ کے الزامات ہیں؛ رپورٹ میں ان دعوؤں پر حکومت یا متعلقہ صنعت کا تفصیلی جواب شامل نہیں تھا۔
حافظ نعیم الرحمان نے مہنگائی کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عوام، طلبہ، نوجوان اور کسان بڑھتی ہوئی قیمتوں کا بوجھ برداشت کر رہے ہیں۔ انہوں نے چینی کی درآمد اور قیمتوں کے معاملے پر بھی حکومت اور شوگر مل مالکان کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ جماعت اسلامی معاشی معاملات میں عوام پر پڑنے والے بوجھ کے خلاف اپنی مہم جاری رکھے گی۔
انہوں نے اس مؤقف پر زور دیا کہ جماعت اسلامی پرامن احتجاج پر یقین رکھتی ہے اور تشدد سے گریز چاہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پرامن عوامی موجودگی حکومت پر سیاسی دباؤ بڑھاتی ہے جبکہ پرتشدد احتجاج سے کارکنوں کی گرفتاریوں اور دوسرے نقصانات کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔ انہوں نے حکومتی نمائندوں سے منسوب اس مؤقف کو بھی مسترد کیا کہ دھرنوں کی وجہ سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ اگر حکومت سنجیدہ بات چیت کرے گی تو جماعت اسلامی بھی مذاکرات کرے گی، تاہم ان کے مطابق پیٹرولیم لیوی کے خاتمے تک احتجاج ختم نہیں کیا جائے گا۔ عمران خان کے طبی معائنے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ حکومت کو عدالتی حکم پر مکمل عمل درآمد کرنا چاہیے تھا۔
یہ رپورٹ ایکسپریس اردو کی 23 اگست 2026 کی براہ راست رپورٹنگ کی بنیاد پر آزادانہ انداز میں مرتب کی گئی ہے۔ احتجاج کے آئندہ مرحلے، شٹر ڈاؤن یا لانگ مارچ کی حتمی تاریخ اور عملی تفصیلات سامنے آنے پر صورت حال مزید واضح ہوگی۔




