ٹوکیو: جاپان کی برآمدات ستمبر میں گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 16.7 فیصد بڑھ گئیں، جس میں سیمی کنڈکٹرز اور مصنوعی ذہانت سے متعلق مصنوعات کی مضبوط عالمی طلب نے اہم کردار ادا کیا۔ جاپانی وزارت خزانہ کے اعداد و شمار کے مطابق یہ برآمدات میں مسلسل تیرہواں ماہانہ سالانہ اضافہ تھا، اگرچہ شرح نمو مارکیٹ کی 20.1 فیصد توقع سے کم رہی۔
اگست میں جاپانی برآمدات 19.3 فیصد بڑھی تھیں۔ ستمبر میں بھی اے آئی انفراسٹرکچر پر عالمی سرمایہ کاری نے چپ سازی کے آلات اور متعلقہ مصنوعات کی طلب کو سہارا دیا۔ خاص طور پر جنوبی کوریا کے سیمی کنڈکٹر ساز اداروں کی سرمایہ کاری سے جاپانی چپ مینوفیکچرنگ مشینری کی مانگ بڑھی۔ یورپ میں معاشی بحالی کے باعث گاڑیوں کی برآمدات بھی نسبتاً مضبوط رہیں۔
منزل کے اعتبار سے امریکا کو جاپانی برآمدات ستمبر میں سالانہ بنیاد پر 22.9 فیصد بڑھیں، جبکہ چین کو ترسیلات میں 8.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ جاپان کی بیرونی تجارت کو ٹیکنالوجی کی طلب کے ساتھ بڑی ترقی یافتہ اور ایشیائی منڈیوں سے بھی مدد مل رہی ہے۔
دوسری جانب درآمدات میں 18.9 فیصد اضافہ ہوا، جو ماہرین کی 19.6 فیصد توقع سے قدرے کم تھا۔ اگست میں درآمدات 28 فیصد بڑھی تھیں۔ خام تیل کی آمد میں کمی کی ایک وجہ بحیرہ احمر اور باب المندب کے راستے میں سکیورٹی خطرات کے باعث ٹینکروں کا راستہ تبدیل کرنا تھا، جس سے جاپان تک ترسیل میں تاخیر ہوئی۔ حکومت کے مطابق اکتوبر میں خام تیل کی خریداری گزشتہ سال کی سطح کے قریب بحال ہونے کی توقع ہے۔
درآمدی نمو سست ہونے سے ستمبر میں جاپان کا تجارتی خسارہ کم ہو کر 536.6 ارب ین، تقریباً 3.39 ارب ڈالر، رہ گیا جو اگست میں 1.1 ٹریلین ین تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی سے متعلق سرمایہ کاری جاپانی برآمدات کے لیے مثبت عامل رہ سکتی ہے، تاہم مشرق وسطیٰ کی کشیدگی، بلند توانائی قیمتیں اور امریکا میں اے آئی سرمایہ کاری کی ممکنہ سست روی اہم منفی خطرات ہیں۔
