اسلام آباد: وفاقی حکومت اور جماعت اسلامی نے پٹرولیم مصنوعات کی بلند قیمتوں کے تناظر میں کم آمدنی والے شہریوں کے لیے ممکنہ ریلیف اقدامات پر مذاکرات کیے ہیں اور آئندہ دنوں میں مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ کی سربراہی میں وفد سے ملاقات کی، جس میں پٹرولیم لیوی، موجودہ فیول ریلیف اسکیم اور زرعی و ٹرانسپورٹ شعبوں پر ایندھن کے اخراجات کے اثرات زیر بحث آئے۔
دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق دونوں جانب سے عام شہری، خصوصاً کم آمدنی والے طبقے، پر معاشی دباؤ کم کرنے کے عملی طریقوں پر کھلی گفتگو ہوئی۔ بیان میں کہا گیا کہ فریقین توانائی کی قیمتوں اور عوامی ریلیف کے لیے قابل عمل راستہ تیار کرنے کی غرض سے آئندہ دنوں میں بھی رابطہ رکھیں گے۔ اسحاق ڈار نے حکومتی مؤقف دہراتے ہوئے کہا کہ عالمی معاشی چیلنجز کے دوران عوامی فلاح کو ترجیح دی جا رہی ہے اور قومی اقتصادی مسائل پر مسلسل بین الجماعتی مکالمہ اہم ہے۔
ملاقات میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ، معاون خصوصی طارق باجوہ، سیکریٹری خزانہ اور پٹرولیم ڈویژن کے خصوصی سیکریٹری سمیت دیگر حکام بھی شریک ہوئے۔ جماعت اسلامی کئی ہفتوں سے پٹرولیم لیوی کے خاتمے یا مرحلہ وار کمی اور ایندھن پر وسیع تر ریلیف کا مطالبہ کر رہی ہے۔ حکومت اور جماعت کے درمیان اس سے پہلے بھی مشترکہ کمیٹی بنانے پر اتفاق ہوا تھا۔
ملاقات کے بعد لیاقت بلوچ نے پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ مذاکرات آخری مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں اور حکومت نے زرعی شعبے اور 1000 سی سی تک گاڑیوں کے مالکان کو ریلیف دینے پر اتفاق کیا ہے۔ تاہم اس دعوے کی اسی شکل میں سرکاری بیان سے تصدیق نہیں ہوئی، اس لیے اسے جماعت اسلامی کا مؤقف سمجھا جائے گا جب تک حکومت باضابطہ پالیسی یا نوٹیفکیشن جاری نہ کرے۔ موجودہ سرکاری فیول ریلیف اسکیم موٹر سائیکل، رکشہ اور 800 سی سی تک گاڑیوں کے بعض مالکان کے لیے شروع کی گئی تھی۔
جماعت اسلامی کے مطابق اس نے چھ تجاویز پیش کی ہیں، جن میں پٹرولیم لیوی ختم کرنا، عوامی ریلیف پیکیج، پبلک ٹرانسپورٹ کے اخراجات کم کرنا، 800 سی سی سے بڑی مخصوص گاڑیوں اور زرعی شعبے تک سہولت بڑھانا شامل ہے۔ بلوچ نے کہا کہ دونوں ٹیمیں لیوی کی ممکنہ مرحلہ وار کمی اور دیگر اقدامات پر ورکنگ پیپر تیار کریں گی۔
جماعت اسلامی نے ساتھ ہی واضح کیا ہے کہ مذاکرات ناکام ہونے یا خاطر خواہ ریلیف نہ ملنے کی صورت میں نومبر کے وسط میں ملتوی شدہ احتجاجی مارچ دوبارہ شروع کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے موجودہ ملاقات کو حتمی معاہدہ نہیں بلکہ جاری مذاکرات کا مرحلہ سمجھا جا رہا ہے۔ کسی نئے ریلیف، لیوی میں تبدیلی یا اہلیت کی توسیع کا حتمی اطلاق متعلقہ سرکاری فیصلے اور باضابطہ نوٹیفکیشن سے مشروط ہوگا۔
