اسلام آباد: سپریم کورٹ نے انٹیلی جنس بیورو کے ایک سابق ملازم کی لازمی ریٹائرمنٹ کے خلاف درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ خاتون کے وقار کا احترام محض ذاتی اخلاقیات کا معاملہ نہیں بلکہ ایسی آئینی قدر ہے جس کی پابندی ریاست اپنے ملازمین سے توقع کر سکتی ہے۔ دو رکنی بینچ کی سربراہی جسٹس عائشہ ملک نے کی جبکہ جسٹس شاہد وحید بھی بینچ میں شامل تھے۔

نو صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس شاہد وحید نے تحریر کیا۔ عدالت کے مطابق سرکاری ملازم کا دفتر سے باہر ایسا طرزِ عمل جو کافی سنگین ہو، محکمانہ قواعد کے تحت بدعنوانی یا misconduct کے زمرے میں آ سکتا ہے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ کسی فوجداری مقدمے میں بریت لازماً اس محکمانہ نتیجے کو ختم نہیں کرتی جو ایک الگ انکوائری اور الگ معیارِ ثبوت کے تحت قائم کیا گیا ہو۔

درخواست گزار جواد عباسی انٹیلی جنس بیورو میں باورچی کے طور پر کام کرتے تھے۔ ان کے خلاف یہ الزام سامنے آیا تھا کہ انہوں نے اپنی اہلیہ کو آگ لگائی، جبکہ محکمانہ کارروائی میں ان کے رویے اور سروس ڈسپلن سے متعلق دیگر الزامات بھی زیرِ غور آئے۔ محکمانہ انکوائری کے بعد جون 2024 میں انہیں لازمی ریٹائرمنٹ کی سزا دی گئی، ان کی محکمانہ اپیل مسترد ہوئی اور بعد میں وفاقی سروس ٹریبونل نے بھی فیصلہ برقرار رکھا۔ فوجداری مقدمے میں نچلی عدالت نے انہیں بری کیا تھا۔

سپریم کورٹ کے سامنے درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ معاملہ میاں بیوی کے درمیان نجی نوعیت کا تھا، سرکاری فرائض سے اس کا تعلق نہیں بنتا اور فوجداری مقدمے میں بریت کے بعد محکمانہ سزا برقرار نہیں رہنی چاہیے۔ عدالت نے اس مؤقف کو قبول نہیں کیا اور کہا کہ سرکاری ملازم کی کردار، دیانت اور نجی زندگی کا طرزِ عمل بھی اس وقت متعلقہ ہو سکتا ہے جب وہ سرکاری منصب رکھنے کی اہلیت، ادارہ جاتی نظم یا عوامی اعتماد پر اثر انداز ہو۔

عدالت نے آئین کے آرٹیکل 9 میں زندگی کے حق اور آرٹیکل 14 میں انسانی وقار کے تحفظ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ تحفظ گھر کی چار دیواری کے اندر بھی برقرار رہتا ہے۔ فیصلے میں خواتین کے خلاف تشدد کو ایک سنگین سماجی مسئلہ قرار دیا گیا اور متعلقہ ملکی قوانین کے ساتھ پاکستان کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کا بھی ذکر کیا گیا۔

اہم بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ محکمانہ کارروائی اور سرکاری ملازمت کی موزونیت سے متعلق ہے۔ فوجداری مقدمے میں درخواست گزار کی سابقہ بریت اپنی جگہ موجود ہے، جبکہ سپریم کورٹ نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ محکمانہ انکوائری میں قائم نتائج کو صرف اس بریت کی بنیاد پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اس طرح عدالت نے فوجداری ذمہ داری اور ملازمت سے متعلق محکمانہ ذمہ داری کے قانونی معیار میں فرق کو نمایاں کیا ہے۔