لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے وفاقی وزیر برائے سمندر پار پاکستانی چوہدری سالک حسین کو صوبائی حکومت کے خلاف کرپشن کے الزامات پر 5 ارب روپے ہرجانے کا قانونی نوٹس بھیج دیا ہے۔ نوٹس میں ان سے متنازع بیانات واپس لینے، غیر مشروط معافی اور وضاحت شائع کرنے اور متعلقہ انٹرویو کے حصوں کو ہٹانے یا درست کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
تنازع اس وقت پیدا ہوا جب پاکستان مسلم لیگ قائد کے رہنما سالک حسین نے ایک نجی ٹی وی پروگرام میں پنجاب کی موجودہ انتظامیہ پر تنقید کی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سیاسی ترجیحات ترقیاتی منصوبوں اور سرکاری فنڈز کی تقسیم پر اثر انداز ہو رہی ہیں اور صوبے میں کرپشن کی شکایات سننے کو ملتی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ترقیاتی بجٹ کا غیر متناسب حصہ لاہور کی جانب جا رہا ہے۔ یہ الزامات سالک حسین کے دعوے ہیں اور کسی عدالتی یا تحقیقاتی ادارے کی ثابت شدہ finding کے طور پر رپورٹ نہیں کیے جا رہے۔
اٹک میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے ان الزامات کو جھوٹا قرار دیا اور کہا کہ اگر وفاقی وزیر کے پاس ثبوت ہیں تو انہیں سامنے لائیں، بصورت دیگر معاملہ عدالت میں لے جایا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ اختلاف کی اصل وجہ گجرات کے ڈپٹی کمشنر کی حالیہ تبدیلی ہے اور سالک حسین اپنی پسند کا افسر تعینات کروانا چاہتے تھے۔ یہ بھی وزیراعلیٰ کا سیاسی مؤقف ہے، جس کی آزادانہ تصدیق دستیاب رپورٹ میں نہیں کی گئی۔
بعد ازاں مسلم لیگ ن نے بتایا کہ قانونی نوٹس سالک حسین کے ساتھ پروگرام کے میزبان نعیم اشرف بٹ اور ٹی وی چینل کے چیئرمین محمد اقبال کو بھی بھیجا گیا۔ نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ وزیراعلیٰ کا منصب عوامی اعتماد اور دیانت سے براہ راست وابستہ ہے، اس لیے وسیع پیمانے پر نشر ہونے والے غیر ثابت شدہ بدعنوانی کے الزامات ان کی شہرت اور سرکاری ذمہ داری پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ نوٹس میں سات دن کے اندر مطلوبہ اقدامات نہ ہونے پر قانونی کارروائی کی تنبیہ کی گئی ہے۔
سالک حسین نے بعد میں میڈیا سے گفتگو میں اپنے بیان سے پیچھے ہٹنے سے انکار کیا۔ ثبوت سے متعلق سوال پر انہوں نے اپنے پہلے انٹرویو کی طرف رجوع کرنے کو کہا اور صوبے میں کرپشن ہونے کا دعویٰ برقرار رکھا۔ اس طرح دونوں جانب سے متضاد مؤقف سامنے آئے ہیں اور فی الحال کوئی عدالت ان الزامات یا ہتک عزت کے دعوے کے حق یا مخالفت میں فیصلہ نہیں دے چکی۔
سیاسی طور پر یہ تنازع اس لیے بھی اہم ہے کہ مسلم لیگ ق کا شجاعت حسین دھڑا وفاق اور پنجاب میں مسلم لیگ ن کے ساتھ تعاون کرتا رہا ہے، جبکہ خاندان کے دوسرے ارکان مختلف سیاسی صف بندی رکھتے ہیں۔ قانونی نوٹس بذات خود کسی الزام کے درست یا غلط ہونے کا عدالتی تعین نہیں؛ اگر معاملہ عدالت پہنچتا ہے تو فریقین کو اپنے دعووں اور دفاع کے لیے قانونی طریقہ کار کے مطابق مواد پیش کرنا ہوگا۔
