لاہور: ایک جوڈیشل مجسٹریٹ نے جعلی امریکی ڈاک ٹکٹوں کی آن لائن فروخت سے متعلق بڑے مالی فراڈ کی تحقیقات میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کو دو ملزمان کا مزید دو روزہ جسمانی ریمانڈ دے دیا ہے۔ دونوں افراد کو سابقہ ریمانڈ مکمل ہونے پر عدالت میں پیش کیا گیا تھا، جہاں تفتیشی افسر نے مزید پانچ روز کی تحویل کی استدعا کی۔
جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو نے درخواست کا جائزہ لینے کے بعد دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا اور تفتیشی ادارے کو ہدایت کی کہ ملزمان کو 5 نومبر کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے۔ مرکزی ملزم، جو خانیوال کا 33 سالہ رہائشی بتایا گیا ہے، اکتوبر کے دوران گرفتار ہوا تھا۔ امریکی حکام کے مطابق فلوریڈا کی ایک جیوری نے اس شخص پر یونائیٹڈ اسٹیٹس پوسٹل سروس کو 126 ملین ڈالر کے مبینہ نقصان سے متعلق الزامات عائد کیے تھے۔ یہ الزامات ہیں اور ان کا حتمی تعین متعلقہ عدالتوں میں ہونا باقی ہے۔
این سی سی آئی اے کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق مرکزی ملزم نے ایک ویب سائٹ کے ذریعے تین سال سے زیادہ عرصے میں 50 لاکھ سے زائد مبینہ جعلی امریکی ڈاک ٹکٹ فروخت کیے۔ امریکی محکمہ انصاف کا مؤقف ہے کہ ویب سائٹ کو یو ایس پی ایس کی مصنوعات یا خدمات فروخت کرنے کی اجازت نہیں تھی اور مبینہ جعلی لیبل صارفین کو وزن، حجم یا منزل سے قطع نظر بہت کم نرخ پر پارسل بھیجنے کی سہولت دیتے تھے۔ امریکی عدالت کے حکم پر ویب سائٹ ضبط اور بند کرنے کی کارروائی بھی کی گئی۔
پاکستانی تفتیش کاروں کی توجہ مالی لین دین اور مبینہ نیٹ ورک کے کردار پر مرکوز ہے۔ این سی سی آئی اے کے لاہور زون کے حکام پہلے بتا چکے ہیں کہ تحقیقات میں 16 بینک اکاؤنٹس کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جن میں مرکزی ملزم اور اس کے بعض رشتہ داروں سے منسوب اکاؤنٹس شامل ہیں۔ ادارے کے مطابق مختلف شہروں میں ٹیمیں تشکیل دے کر متعدد مقامات پر چھاپے مارے گئے اور کئی افراد سے معلومات حاصل کی گئیں۔
ایجنسی نے کال ڈیٹا، موبائل آلات سے متعلق ریکارڈ اور نگرانی کی ویڈیوز سمیت ڈیجیٹل اور فرانزک ذرائع استعمال کرنے کا بھی بتایا ہے۔ تاہم تحقیقات میں زیر جائزہ اکاؤنٹس یا دیگر افراد کا ذکر بذات خود جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں ہے۔ تفتیش کاروں کو یہ طے کرنا ہے کہ ویب سائٹ چلانے، آرڈر پراسیس کرنے، رقوم وصول کرنے اور مبینہ جعلی ڈاک ٹکٹ تقسیم کرنے میں کس فرد کا کیا کردار تھا۔
عدالت کا تازہ حکم صرف تفتیش کے لیے محدود جسمانی تحویل سے متعلق ہے اور اسے ملزمان کے خلاف الزامات کے ثابت ہونے کا فیصلہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ مقدمے کی مالی وسعت، بیرون ملک متاثرہ سرکاری ادارے اور پاکستان میں مبینہ مالی لین دین کے باعث تحقیقات میں مقامی اور امریکی حکام کے ریکارڈ اہم حیثیت رکھتے ہیں۔
