لاہور: جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے پنجاب حکومت پر خواتین کو تحفظ اور بنیادی سہولتیں فراہم نہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے تعلیم، روزگار، اجرت اور مہنگائی کے مسائل پر جواب طلب کیا ہے۔ ڈان کی 23 اگست کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر جماعت اسلامی کے دھرنے میں خواتین کے اجتماع سے خطاب کیا۔ ان کی تقریر میں دیے گئے اعداد و الزامات جماعت اسلامی کے سیاسی مؤقف کے طور پر پیش کیے جا رہے ہیں، آزاد سرکاری اعداد یا عدالتی نتائج کے طور پر نہیں۔
حافظ نعیم نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ برس پنجاب میں خواتین سے زیادتی کے ساڑھے چار ہزار سے زیادہ مقدمات رپورٹ ہوئے اور ہر ایک ہزار ملزمان میں سے صرف چار کو سزا ہوئی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ صوبے میں تقریباً 80 لاکھ بچیاں اسکول سے باہر ہیں، شرح خواندگی 70 فیصد سے زیادہ نہیں اور اسکول سے باہر بچوں میں لڑکیوں کا حصہ تقریباً 60 فیصد ہے۔ ڈان کی رپورٹ میں ان اعداد کے الگ بنیادی ڈیٹاسیٹ یا سرکاری جواب کی تفصیل شامل نہیں تھی، اس لیے انہیں مقرر سے منسوب رکھنا ضروری ہے۔
جماعت اسلامی کے امیر نے صوبائی حکومت پر 11 ہزار لڑکیوں کے اسکول آؤٹ سورس کرنے، خواتین ڈاکٹروں کو مناسب ہاؤس جاب نہ ملنے اور لیڈی ہیلتھ ورکرز کے مسائل حل نہ کرنے کا الزام بھی لگایا۔ ان کے مطابق ملک کی تقریباً آٹھ کروڑ پچاس لاکھ ورک فورس میں قریب تین کروڑ خواتین شامل ہیں، مگر فیکٹریوں اور زرعی شعبے میں کام کرنے والی بہت سی خواتین کے لیے کم از کم اجرت مناسب طور پر مقرر یا نافذ نہیں۔
خطاب کا ایک بڑا حصہ مہنگائی اور خاندانوں پر اس کے اثرات سے متعلق تھا۔ حافظ نعیم نے کہا کہ مائیں اپنی ضروریات کم کر کے بچوں کی فیس ادا کر رہی ہیں اور کئی گھرانوں کو خوراک کے اخراجات پورے کرنے میں دشواری ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ مریم نواز کی حکومت کے اخراجات اور نمائشی منصوبوں پر تنقید کی اور 11 ارب روپے کے طیارے کی خرید کا حوالہ دیا۔ حکومت یا متعلقہ محکموں کا اس تقریر پر نیا جواب رپورٹ میں شامل نہیں تھا۔
حافظ نعیم نے پٹرولیم لیوی واپس لیے جانے تک جماعت اسلامی کا احتجاج جاری رکھنے اور مطالبات نہ مانے جانے پر ملک گیر شٹر ڈاؤن اور لانگ مارچ کی دھمکی بھی دہرائی۔ خواتین ونگ کی مرکزی اور صوبائی عہدیداروں نے بھی اجتماع سے خطاب کیا۔ موجودہ خبر سیاسی تقریر کے قابلِ شناخت نئے نکات اور مطالبات تک محدود ہے؛ دعووں کی سرکاری جانچ، حکومت کا جواب یا احتجاج کے عملی اگلے مرحلے کو الگ مادی پیش رفت سمجھا جائے گا۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




