جماعت اسلامی کی جانب سے پیٹرولیم لیوی، مہنگائی، بجلی کے مسائل اور زیادہ ٹیکسوں کے خلاف 3 ستمبر کو دی گئی ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال کو کراچی کی متعدد بڑی تاجر تنظیموں نے حمایت دی ہے۔ مختلف مارکیٹ ایسوسی ایشنز نے شہر کے اہم کاروباری مراکز اور شاپنگ علاقوں میں دکانیں بند رکھنے کا اعلان کیا۔

کراچی تاجر اتحاد، کراچی الیکٹرونکس ڈیلرز ایسوسی ایشن، الائنس آف مارکیٹ ایسوسی ایشنز، بولٹن مارکیٹ اور دیگر تنظیموں کے رہنماؤں نے کہا کہ وہ احتجاج میں حصہ لیں گے۔ الائنس کے مطابق اس سے وابستہ 43 مارکیٹوں کے سربراہان نے بندش کی حمایت کی۔ یہ اعلانات متعلقہ تاجر تنظیموں کے مؤقف ہیں اور شہر کے ہر کاروبار کی بندش کی ضمانت نہیں۔

جماعت اسلامی پیٹرولیم لیوی ختم کرنے، بجلی کے نرخ اور آئی پی پی معاملات پر نظرثانی اور مہنگائی میں کمی کے مطالبات کے ساتھ کئی ہفتوں سے احتجاج کر رہی ہے۔ پارٹی سربراہ حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ہڑتال کے بعد احتجاجی تحریک کا اگلا مرحلہ طے کیا جائے گا، جس میں اسلام آباد کی طرف مارچ یا مزید دھرنوں جیسے آپشن زیر غور ہیں۔

حکومت ایندھن پر ٹیکسوں اور لیویز کو بجٹ محصولات اور مالی ضروریات کا حصہ قرار دیتی ہے، جبکہ سیاسی و کاروباری مخالفین کا کہنا ہے کہ ان کا بوجھ صارفین اور صنعت پر منتقل ہوتا ہے۔ حالیہ عالمی تیل قیمتوں میں اضافے کے ساتھ پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں مسلسل کئی دن بڑھی ہیں، جس سے احتجاج کے معاشی پس منظر میں شدت آئی ہے۔

ہڑتال ایک سیاسی و معاشی احتجاج ہے اور اس کے اثرات کا درست اندازہ دن بھر کاروباری سرگرمی، ٹرانسپورٹ اور مختلف شہروں میں مارکیٹوں کی بندش سے ہوگا۔ تاجر تنظیموں کی وسیع حمایت کراچی میں اس احتجاج کو نمایاں بنا رہی ہے، تاہم حکومت کی جانب سے مطالبات پر کسی حتمی پالیسی تبدیلی کا اعلان ابھی سامنے نہیں آیا۔