بلوچستان کے پانچ ہائی رسک اضلاع میں پانچ روزہ خصوصی انسداد پولیو مہم شروع کی گئی ہے، جس کا ہدف 10 سال سے کم عمر 3 لاکھ سے زیادہ بچوں تک ویکسین پہنچانا ہے۔ مہم کوئٹہ، چمن، قلعہ عبداللہ، پشین اور بارشور کے علاقوں میں چلائی جا رہی ہے۔
صوبائی پولیو ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے مطابق گھر گھر ویکسینیشن کے لیے تقریباً ایک ہزار 200 ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ معمول کی پولیو مہمات عموماً پانچ سال سے کم عمر بچوں پر مرکوز ہوتی ہیں، لیکن مخصوص ہائی رسک علاقوں میں عمر کی حد بڑھائی جا سکتی ہے تاکہ وائرس کی منتقلی کا دائرہ محدود کیا جا سکے۔
بلوچستان میں سرحدی آمدورفت، دور دراز آبادی، بعض علاقوں میں سکیورٹی مسائل اور ویکسین سے انکار پولیو کے خاتمے کی کوششوں کے لیے چیلنج رہے ہیں۔ پاکستان ان چند ممالک میں شامل رہا ہے جہاں جنگلی پولیو وائرس کی مقامی منتقلی مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکی۔
ویکسینیشن ٹیموں کی حفاظت بھی مہم کا اہم حصہ ہے کیونکہ ماضی میں پولیو کارکنوں اور ان کی سکیورٹی پر حملے ہوئے ہیں۔ حکام عام طور پر پولیس اور دیگر سکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر ٹیموں کی نقل و حرکت اور حساس علاقوں میں رسائی کا انتظام کرتے ہیں۔
مہم کی کامیابی صرف مقررہ تعداد میں قطرے پلانے سے نہیں بلکہ رہ جانے والے بچوں تک دوبارہ رسائی، سیوریج نگرانی اور وائرس کے نمونوں میں کمی سے ناپی جائے گی۔ حکام نے والدین سے اپیل کی ہے کہ بچوں کو ہر مہم میں پولیو ویکسین ضرور دلوائیں، کیونکہ متعدد خوراکیں محفوظ مدافعت پیدا کرنے کے لیے ضروری ہوتی ہیں۔




