سندھ کابینہ نے صوبے بھر میں دریائی کچے کی اراضی کا جامع سروے اور میپنگ کرانے کی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت کراچی میں ہونے والے کابینہ اجلاس میں منصوبے کے لیے 70 کروڑ 50 لاکھ روپے، یعنی 705 ملین روپے، مختص کیے گئے۔

سروے آف پاکستان کو یہ کام انجام دینے کی ذمہ داری دی جائے گی۔ جامع نقشہ سازی سے سرکاری اور نجی زمین کی حدود، دریائی بہاؤ سے متاثر علاقوں اور مختلف انتظامی استعمال کی زیادہ درست تصویر سامنے آ سکتی ہے۔ سندھ میں دریائے سندھ کے کچے کے علاقے زراعت، جنگلات، سیلابی گزرگاہوں اور امن و امان سمیت کئی پالیسی مسائل سے جڑے ہیں۔

درست جغرافیائی ڈیٹا زمین کے ریکارڈ، تجاوزات کی نشاندہی اور سیلابی خطرے کی منصوبہ بندی میں مدد دے سکتا ہے۔ حالیہ مون سون اور سیلابی خدشات کے تناظر میں دریائی علاقوں کی نقشہ سازی ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے لیے بھی اہم ہے۔

سروے کی منظوری بذات خود کسی زمین کی ملکیت تبدیل نہیں کرتی اور نہ ہی ہر متنازع دعوے کا فیصلہ کرتی ہے۔ ملکیت اور قانونی حقوق متعلقہ ریکارڈ، قوانین اور عدالتی یا انتظامی کارروائی کے تابع رہیں گے۔ نقشہ سازی بنیادی طور پر بہتر ڈیٹا اور منصوبہ بندی فراہم کرے گی۔

705 ملین روپے کے منصوبے کی افادیت کا انحصار سروے کے معیار، ڈیجیٹل لینڈ ریکارڈ کے ساتھ انضمام اور متعلقہ محکموں کے استعمال پر ہوگا۔ اگر ڈیٹا عوامی اداروں کے درمیان مؤثر طور پر شیئر ہو تو کچے کے علاقوں میں زمین، سیلاب، ترقیاتی منصوبوں اور قانون نافذ کرنے کی منصوبہ بندی زیادہ شواہد پر مبنی بن سکتی ہے۔