وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، پمز، میں مہلک آتشزدگی کی تحقیقات کے بعد کیے گئے فیصلوں پر فوری عمل درآمد کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو کہا کہ اگر تحقیقات میں کسی فرد یا ادارے کی مجرمانہ غفلت ثابت ہوتی ہے تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
پمز میں آگ کے واقعے نے وفاقی دارالحکومت کے بڑے سرکاری ہسپتالوں میں فائر اور لائف سیفٹی انتظامات پر سوالات اٹھائے تھے۔ واقعے کے بعد سی ڈی اے نے اسلام آباد کے متعدد ہسپتالوں اور طبی مراکز میں حفاظتی معیار کا معائنہ کرکے خلاف ورزیوں پر چالان بھی کیے۔
وزیراعظم کی ہدایت انکوائری کی سفارشات کے انتظامی نفاذ سے متعلق ہے۔ کسی فرد کے خلاف فوجداری ذمہ داری کا حتمی تعین متعلقہ تحقیقاتی اور عدالتی عمل کے ذریعے ہوگا، اس لیے غفلت کے الزامات اور ثابت شدہ جرم میں فرق برقرار رکھنا ضروری ہے۔
ہسپتالوں میں آگ کا خطرہ عام عمارتوں کے مقابلے میں زیادہ حساس ہے کیونکہ مریضوں میں بہت سے افراد خود انخلا نہیں کر سکتے اور آکسیجن، طبی گیسوں، برقی آلات اور آئی سی یو جیسے شعبوں کے لیے خصوصی حفاظتی انتظامات درکار ہوتے ہیں۔
فائر الارم، فعال اخراجی راستے، اسپرنکلر یا آگ بجھانے کے نظام، تربیت یافتہ عملہ اور باقاعدہ مشقیں بنیادی حفاظتی تقاضے ہیں۔ انکوائری کے بعد اصل اصلاح اس وقت ہوگی جب سفارشات کو پمز کے ساتھ دیگر سرکاری ہسپتالوں میں بھی قابل پیمائش حفاظتی اپ گریڈ میں تبدیل کیا جائے۔ وزیراعظم نے اسی تناظر میں جوابدہی اور فوری عمل پر زور دیا ہے۔




