سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہاؤسنگ و ورکس نے اسلام آباد ماڈل جیل کی تعمیر میں طویل تاخیر پر شدید تشویش ظاہر کی ہے۔ کمیٹی نے متعلقہ اداروں سے منصوبے کی موجودہ پیش رفت، باقی کام اور تکمیل میں حائل انتظامی و مالی رکاوٹوں کی تفصیلات طلب کی ہیں۔
وفاقی دارالحکومت میں الگ جدید جیل کی ضرورت کئی برسوں سے زیر بحث ہے کیونکہ اسلام آباد کے زیر سماعت اور سزا یافتہ قیدیوں کو بڑی حد تک راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سمیت دیگر سہولتوں میں رکھا جاتا رہا ہے۔ نئی جیل کا مقصد وفاقی دارالحکومت کے لیے مستقل اصلاحی اور حراستی انفراسٹرکچر فراہم کرنا ہے۔
بڑے سرکاری تعمیراتی منصوبوں میں لاگت میں اضافہ، ٹھیکوں، زمین، فنڈنگ اور ڈیزائن میں تبدیلی تاخیر کا سبب بن سکتی ہے۔ ماڈل جیل کے معاملے میں کمیٹی نے جوابدہی پر زور دیا ہے تاکہ واضح ہو کہ منصوبہ مقررہ مدت میں کیوں مکمل نہیں ہوا۔
جیل انفراسٹرکچر صرف عمارت تک محدود نہیں؛ قیدیوں کی صحت، قانونی ملاقات، خواتین و کم عمر قیدیوں کے الگ انتظام، سکیورٹی، بحالی اور انسانی حقوق کے معیار بھی اہم ہیں۔ نئی سہولت کو ان تقاضوں کے مطابق ڈیزائن اور چلانا ضروری ہوگا۔
پارلیمانی کمیٹی کی تشویش انتظامی نگرانی کا مرحلہ ہے اور اس سے فوری تکمیل کی ضمانت نہیں بنتی۔ اصل پیش رفت فنڈز کے اجرا، تعمیراتی کام اور واضح ٹائم لائن سے ظاہر ہوگی۔ منصوبے کی تکمیل سے اڈیالہ جیل پر دباؤ کم اور اسلام آباد کے عدالتی نظام کے لیے قیدیوں کی نقل و حمل زیادہ مؤثر ہو سکتی ہے۔




