پاکستان نے یونیسکو کے ساتھ ملک کے مزید تاریخی مقامات اور ثقافتی روایات کو عالمی ورثہ فہرستوں میں شامل کرنے کے امکانات پر بات چیت کی ہے۔ قومی ورثہ و ثقافت کے وزیر اور یونیسکو کے پاکستان نمائندے کی ملاقات میں رانی گٹ اور بھنبھور سمیت مختلف نامزدگیوں کا ذکر کیا گیا۔
پاکستان نے غیر مادی ثقافتی ورثے کے طور پر موسیقی، دستکاری اور کھانوں کی روایات کو بھی عالمی سطح پر دستاویزی شکل دینے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ زیر بحث مثالوں میں مکئی کی روٹی و ساگ، سجی، بریانی اور چپلی کباب جیسی خوراکی روایات کے ساتھ رباب اور ستار سے متعلق ثقافتی عناصر شامل ہیں۔
یونیسکو کی فہرست میں شمولیت خودکار عمل نہیں۔ نامزدگی کے لیے تاریخی اہمیت، تحفظ کی حالت، دستاویزی شواہد، مقامی برادری کی شمولیت اور انتظامی منصوبہ سمیت تفصیلی معیار پورا کرنا ہوتا ہے۔ بین الاقوامی ماہرین جائزے کے بعد فیصلہ کرتے ہیں۔
رانی گٹ خیبر پختونخوا میں گندھارا تہذیب سے منسلک آثار قدیمہ کا مقام ہے جبکہ بھنبھور سندھ کا تاریخی شہر اور بندرگاہی مقام ہے۔ ایسے مقامات کی عالمی شناخت سیاحت اور تحقیق کو فروغ دے سکتی ہے، مگر بڑھتی سیاحت کے ساتھ تحفظ کے مؤثر انتظامات بھی ضروری ہوتے ہیں۔
ثقافتی کھانوں یا موسیقی کی روایات کی نامزدگی کا مقصد کسی ایک شہر یا گروہ کو ملکیت دینا نہیں بلکہ زندہ ثقافتی روایت کی دستاویز اور حفاظت ہے۔ پاکستان اور یونیسکو کی موجودہ بات چیت نامزدگی کے عمل کو آگے بڑھانے کا مرحلہ ہے؛ حتمی فہرست بندی متعلقہ بین الاقوامی طریقہ کار کے بعد ہی ممکن ہوگی۔




