کوئٹہ: بلوچستان میں جناح پیپلز ماس ٹرانزٹ ٹرین سروس کا باقاعدہ افتتاح کردیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی اور وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کوئٹہ میں سروس کا افتتاح کیا، جس کے بعد کچلاک سے سریاب تک روزانہ مسافر ٹرین چلانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق ٹرین کے روٹ پر سات اسٹیشن قائم ہیں۔ اس منصوبے کے لیے تقریباً 32 کلومیٹر ریلوے ٹریک کو اپ گریڈ کیا گیا اور صوبائی حکومت کے مطابق کام 120 دن میں مکمل ہوا۔ منصوبے کی لاگت تقریباً تین ارب روپے بتائی گئی ہے۔ یہ پاکستان ریلوے اور حکومت بلوچستان کے اشتراک سے تیار کیا گیا ماس ٹرانزٹ منصوبہ ہے۔

افتتاحی تقریب سے خطاب میں حنیف عباسی نے کہا کہ وفاقی حکومت بلوچستان میں عوامی سہولیات بہتر بنانے کے لیے تعاون جاری رکھے گی۔ وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے کہا کہ نئی سروس طلبہ، ملازمین، کاروباری افراد اور عام شہریوں کو نسبتاً محفوظ، آرام دہ اور کم خرچ سفری سہولت فراہم کرنے کے لیے شروع کی گئی ہے۔

حکومت بلوچستان کے مطابق سروس کو مستقبل میں بوستان اور مستونگ تک توسیع دینے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے، جبکہ موجودہ ٹریک کو سال کے اندر دو طرفہ آپریشن کے قابل بنانے کا ہدف بتایا گیا ہے۔ یہ آئندہ کے منصوبے ہیں اور ان کی تکمیل عملی کام، فنڈنگ اور ریلوے انفراسٹرکچر کی پیش رفت سے مشروط ہوگی۔

جناح پیپلز ٹرین کی تیاری میں پاکستان ریلوے کی کیرج فیکٹری نے کوچز بھی تیار کیے، جنہیں ستمبر کے تیسرے ہفتے میں بلوچستان کے لیے روانہ کیا گیا تھا۔ افتتاح سے قبل صوبائی حکومت نے ٹریک اور اسٹیشنوں کی اپ گریڈیشن مکمل ہونے کا اعلان کیا تھا۔ اب منصوبے کا اصل امتحان روزانہ آپریشن، شیڈول کی پابندی، کرایوں، مسافروں کی تعداد اور اسٹیشنوں تک آسان رسائی کی صورت میں ہوگا، جن سے اس ماس ٹرانزٹ سروس کی عملی افادیت کا اندازہ لگایا جا سکے گا۔