کوئٹہ: کچلاک اور سریاب کے درمیان چلنے والی نئی جناح پیپلز ٹرین کا انجن کچلاک ریلوے اسٹیشن کے قریب پٹڑی سے اتر گیا، تاہم واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور تمام مسافر محفوظ رہے۔ ڈان کے مطابق ریلوے حکام نے فوری طور پر متبادل انجن کا انتظام کیا، جس کے بعد مختصر تاخیر کے ساتھ ٹرین سریاب کی جانب روانہ ہوگئی۔
ریلوے حکام کے مطابق انجن نمبر 5120 اتوار کو کچلاک اسٹیشن کی لائن نمبر 3 پر معمول کی شَنٹنگ کے دوران ریورس کرتے ہوئے پٹڑی سے اترا۔ واقعے کے فوراً بعد تکنیکی عملے نے صورتحال کا جائزہ لیا اور ٹرین کی روانگی برقرار رکھنے کے لیے دوسرا انجن فراہم کیا۔ رپورٹ کے مطابق مسافروں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور حادثے کے باعث سفر میں صرف محدود تاخیر ہوئی۔
حادثے کی ممکنہ وجہ کے بارے میں مختلف سرکاری اداروں کے مؤقف ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ریلوے حکام نے ابتدائی طور پر شبہ ظاہر کیا کہ فش پلیٹ چوری ہونے کے باعث پٹڑی متاثر ہوئی ہو سکتی ہے۔ حکام نے واضح کیا کہ اصل وجہ جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں، اس لیے ابتدائی دعوے کو حتمی نتیجہ نہیں سمجھا جا سکتا۔
دوسری جانب کچلاک پولیس نے فش پلیٹ کی مبینہ چوری سے متعلق ریلوے حکام کے ابتدائی مؤقف سے اختلاف کیا۔ پولیس کے مطابق حادثہ اس مقام پر ٹریک کی خراب حالت کے باعث پیش آیا جہاں ریلوے کارکن کام کر رہے تھے۔ دونوں مؤقف سامنے آنے کے بعد ریلوے حکام نے واقعے کی باقاعدہ انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔
جناح پیپلز ٹرین حال ہی میں کچلاک اور سریاب کے درمیان متعارف کرائی گئی ہے۔ اس واقعے میں مسافروں کے محفوظ رہنے کے باوجود ٹریک کی حالت اور بنیادی ریلوے انفراسٹرکچر کی نگرانی سے متعلق سوالات سامنے آئے ہیں۔ تاہم حادثے کی ذمہ داری یا قطعی تکنیکی سبب کے بارے میں کسی نتیجے تک پہنچنا انکوائری مکمل ہونے سے پہلے درست نہیں ہوگا۔ تحقیقات میں یہ طے کیا جائے گا کہ پٹڑی سے اترنے کا واقعہ ٹریک کی خرابی، کسی پرزے کی عدم موجودگی یا کسی دوسرے تکنیکی یا عملی سبب سے پیش آیا۔
