اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ملاقات کی جس میں صوبے کی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال زیر بحث آئی۔ یہ ملاقات ایسے وقت ہوئی ہے جب وفاقی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کسی پیش رفت کے بغیر ختم ہونے کے بعد خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے امکان سے متعلق قیاس آرائیاں بڑھ گئی ہیں۔
ڈان کے مطابق گورنر ہاؤس سے جاری بیان میں کہا گیا کہ دونوں رہنماؤں نے سیاسی اور امن و امان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ بیان کے مطابق پی ٹی آئی کے اسلام آباد مارچ کے تناظر میں سکیورٹی چیک پوسٹوں سے متعلق خدشات بھی گفتگو کا حصہ رہے۔ یہ سرکاری بیان ملاقات اور زیر بحث امور کی تصدیق کرتا ہے، تاہم اس میں گورنر راج نافذ کرنے کے کسی حتمی فیصلے کا اعلان نہیں کیا گیا۔
رپورٹ میں ایک نام ظاہر نہ کرنے والے حکومتی ذریعے کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ وفاقی حکومت صوبے میں گورنر راج کے نفاذ پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ چونکہ یہ بات باضابطہ حکومتی نوٹیفکیشن یا کابینہ کے اعلان کی صورت میں سامنے نہیں آئی، اس لیے اسے حکومتی ذریعے سے منسوب امکان ہی سمجھا جا رہا ہے، حتمی فیصلہ نہیں۔
یہ پیش رفت حکومت اور اپوزیشن کے درمیان حالیہ مذاکرات کے تعطل کے پس منظر میں ہوئی ہے۔ مذاکرات میں انسداد دہشت گردی پالیسی اور پی ٹی آئی کے بانی عمران خان تک رسائی جیسے معاملات اختلافی نکات کے طور پر سامنے آئے تھے۔ وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا سے دہشت گردی کے خلاف تعاون پر زور دیا ہے جبکہ پی ٹی آئی نے اپنے سیاسی مطالبات کو مذاکراتی عمل کا حصہ بنانے پر اصرار کیا۔
آئینی طور پر صوبے میں کسی غیر معمولی انتظامی اقدام کے لیے باقاعدہ قانونی اور آئینی طریقہ کار درکار ہوتا ہے۔ اس مرحلے پر دستیاب معلومات صرف اعلیٰ سطحی مشاورت اور حکومتی حلقوں میں زیر غور آپشن کی نشاندہی کرتی ہیں۔ کسی حتمی اقدام کی تصدیق متعلقہ آئینی کارروائی یا سرکاری اعلان کے بعد ہی ہو سکے گی۔
