اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 5 اکتوبر کو بلدیاتی انتخابات کی تیاریوں کے خصوصی جائزہ اجلاس میں کہا ہے کہ پنجاب میں انتخابات کرانے کے لیے کمیشن تیار ہے، تاہم اسلام آباد، خیبرپختونخوا، کوئٹہ اور کنٹونمنٹ بورڈز میں مختلف قانونی اور انتظامی رکاوٹیں ابھی حل طلب ہیں۔ اجلاس کی صدارت چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا نے کی اور مختلف علاقوں میں انتخابی تیاریوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔

الیکشن کمیشن کے مطابق پنجاب کے لیے بلدیاتی انتخابات کا مسودہ شیڈول صوبائی حکومت کو بھجوا دیا گیا ہے اور ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران، ریٹرننگ افسران اور اسسٹنٹ ریٹرننگ افسران کی تقرری کے لیے مطلوبہ فہرستیں بھی طلب کی گئی ہیں۔ کمیشن نے پنجاب حکومت سے کہا ہے کہ وہ مسودہ شیڈول پر جلد جواب دے تاکہ انتخابی پروگرام کو حتمی شکل دینے کا عمل آگے بڑھ سکے۔ سندھ میں بھی مقررہ وقت پر بلدیاتی انتخابات کے لیے تیاریوں کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

اسلام آباد کے بارے میں اجلاس کو بتایا گیا کہ حلقہ بندیاں مکمل ہو چکی ہیں، لیکن اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری سے متعلق ترمیمی آرڈیننس 2026 کی مدت ختم ہونے کے بعد قانون سازی کا مرحلہ اہم بن گیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے وفاقی حکومت سے متعلقہ قانون سازی فوری مکمل کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمیشن کے مطابق اگر نئی قانون سازی مکمل نہ ہوئی تو موجودہ اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2015 کے تحت انتخابات کرانے کا راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔

کنٹونمنٹ بورڈز میں حلقہ بندیاں مکمل ہونے کے باوجود وفاقی حکومت کی جانب سے باضابطہ درخواست درکار ہے۔ کمیشن نے بتایا کہ اس سلسلے میں یاد دہانیوں کے بعد وزارت دفاع کو آخری خط لکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے بعد آئندہ لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

خیبرپختونخوا میں صورت حال مختلف ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق 23 اضلاع میں حلقہ بندیاں مکمل ہو چکی تھیں اور سات میں کام جاری تھا، مگر صوبائی لوکل گورنمنٹ قانون میں آبادی کی حد سے متعلق ترمیم کے بعد موجودہ شیڈول کے ساتھ مطابقت کا مسئلہ پیدا ہوا۔ کمیشن نے صوبائی حکومت سے متعلقہ شقوں اور شیڈول میں مناسب تبدیلی کے لیے تعاون مانگا ہے اور معاملہ کمیشن کے سامنے زیرِ سماعت ہے۔

بلوچستان میں کوئٹہ کے بلدیاتی انتخابات بھی تاخیر کا شکار ہیں۔ الیکشن کمیشن نے کہا کہ عدالتی احکامات کے مطابق حلقہ بندی مکمل ہونے کے بعد صوبائی حکومت نے کوئٹہ کو دو اضلاع میں تقسیم کیا، مگر نئی حدود سے متعلق مکمل معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ کمیشن نے بلوچستان حکومت کو قانون سازی اور مطلوبہ انتظامی تفصیلات جلد مکمل کرنے کے لیے لکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اجلاس کا نتیجہ یہ ہے کہ مختلف علاقوں میں بلدیاتی انتخابات ایک ہی مرحلے پر نہیں ہیں۔ پنجاب میں انتظامی تیاری نسبتاً آگے ہے، جبکہ دیگر علاقوں میں قانون سازی، حلقہ بندی یا سرکاری درخواستوں سے متعلق تقاضے انتخابی شیڈول کے حتمی اعلان سے پہلے پورے ہونا باقی ہیں۔