حیدرآباد: پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی نے حیدرآباد ایئرپورٹ پر ایک دہائی سے زیادہ عرصے بعد کمرشل پروازوں کی ممکنہ بحالی کی تصدیق کی ہے، تاہم منصوبے سے متعلق باقاعدہ سرکاری اعلامیہ ابھی جاری نہیں ہوا۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق اتھارٹی کے ترجمان سیف اللہ نے کہا کہ ایئرپورٹ کی بحالی منصوبہ بندی میں شامل ہے اور مقامی میڈیا میں سامنے آنے والی تفصیلات بڑی حد تک درست ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مجوزہ منصوبے میں موجودہ تقریباً 7,000 فٹ طویل رن وے کو بڑھا کر قریب 11,500 فٹ کرنے کا تصور شامل ہے۔ اس توسیع سے بوئنگ 777 جیسے بڑے طیاروں کے آپریشن کی گنجائش پیدا ہونے کی توقع ہے۔ مسافروں کی سہولت کے لیے ٹرمینل اور متعلقہ بنیادی ڈھانچے میں بھی بہتری کی بات کی گئی ہے، تاکہ ایئرپورٹ ہنگامی یا متبادل لینڈنگ کے ساتھ باقاعدہ مسافر پروازوں کو بھی سنبھال سکے۔
حیدرآباد ایئرپورٹ پر آخری کمرشل مسافر پرواز 2013 میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز نے چلائی تھی۔ اس کے بعد یہ اڈہ باقاعدہ مسافر آپریشن سے باہر رہا۔ بحالی کی صورت میں حیدرآباد اندرون سندھ کے ایک اضافی فضائی مرکز کے طور پر کام کر سکتا ہے، جبکہ کراچی، سکھر یا نوابشاہ میں خراب موسم یا کسی ہنگامی صورت حال کے دوران پروازوں کو یہاں موڑنے کی گنجائش بھی پیدا ہو سکتی ہے۔
تجویز کردہ انتظام کے مطابق اگر کسی پرواز کو حیدرآباد اتارا جائے تو مسافروں کو بعد ازاں زمینی راستے سے ان کی اصل منزل تک پہنچایا جا سکتا ہے، جس سے ایئرلائنز کو پرواز منسوخ کرنے کے بجائے متبادل آپریشن جاری رکھنے کا موقع ملے گا۔ اس نوعیت کا بیک اپ نظام خاص طور پر سندھ کے فضائی نیٹ ورک میں آپریشنل لچک بڑھا سکتا ہے۔
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے ترجمان نے منصوبے کی سمت کی تصدیق ضرور کی ہے، لیکن تعمیراتی کام کے آغاز، مجموعی لاگت، تکمیل کی تاریخ یا کمرشل پروازوں کے باقاعدہ شیڈول کے بارے میں حتمی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ اس لیے فی الحال اسے منظور شدہ سمت میں زیر منصوبہ بحالی سمجھا جا رہا ہے، نہ کہ فوری طور پر پروازوں کی بحالی کا حتمی اعلان۔ آئندہ پیش رفت کا انحصار تکنیکی اپ گریڈ، فنڈنگ، ریگولیٹری منظوری اور ایئرلائنز کی آپریشنل دلچسپی پر ہوگا۔

