اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے 5 اکتوبر کو تصدیق کی ہے کہ ہائی جیک کیے گئے آئل ٹینکر ایم ٹی آنر 25 کے باقی تین پاکستانی عملہ ارکان کو بازیاب کرا لیا گیا ہے اور انہیں ادیس ابابا پہنچا دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق جبوتی میں پاکستانی سفارت خانے کی ٹیم بازیاب ہونے والے افراد کی دیکھ بھال اور وطن واپسی کے انتظامات میں مصروف ہے۔

حکام کے مطابق بازیاب ہونے والے تین پاکستانیوں کی شناخت عمران علی، محمد یاسین اور سید حسین یوسف کے طور پر ہوئی ہے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ ان افراد کو ادیس ابابا میں وصول کیا جائے گا اور دستیاب پہلی مناسب ایتھوپین ایئرلائنز پر پاکستان روانہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ابتدائی طور پر ان کی کراچی آمد 7 اکتوبر متوقع بتائی گئی ہے، تاہم سفری شیڈول ایئرلائن کی دستیابی سے مشروط ہے۔

وزیر خارجہ نے اس کارروائی میں تعاون پر صومالی حکومت اور یورپی یونین نیول فورس آپریشن اٹلانٹا کا شکریہ ادا کیا۔ ان کے مطابق ایم ٹی آنر 25 کے قریب موجود بین الاقوامی بحری فورس نے عملے کی رہائی اور محفوظ منتقلی میں مدد فراہم کی۔ پاکستان نے سمندری قزاقی کے خلاف دوطرفہ اور کثیرالجہتی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا ہے۔

یہ پیش رفت ایک ایسے واقعے کے بعد سامنے آئی ہے جس میں اپریل میں پلاؤ کے پرچم بردار پیٹرولیم مصنوعات بردار جہاز ایم ٹی آنر 25 کو صومالی قزاقوں نے پنٹ لینڈ کے ساحل سے تقریباً 30 ناٹیکل میل دور قبضے میں لے لیا تھا۔ جہاز پر مجموعی طور پر 17 افراد سوار تھے جن میں 10 پاکستانی شامل تھے۔ بعد میں پنٹ لینڈ حکام نے کارروائی کرکے جہاز کو آزاد کرایا اور متعدد مبینہ قزاقوں کو حراست میں لیا۔

اس واقعے میں پانچ عملہ ارکان ہلاک ہوئے تھے، جن میں تین پاکستانی بھی شامل تھے، جبکہ کئی افراد زخمی ہوئے۔ ایک روز قبل چار زخمی پاکستانیوں اور تین جاں بحق پاکستانیوں کی میتیں خصوصی پرواز کے ذریعے کراچی لائی گئی تھیں۔ باقی تین پاکستانی عملہ ارکان کی بازیابی کے بعد حکام اب ان کی وطن واپسی پر توجہ دے رہے ہیں۔

سرکاری بیان میں بازیاب ہونے والے افراد کی طبی حالت کی تفصیلی معلومات جاری نہیں کی گئیں۔ دستیاب معلومات کے مطابق وہ سفارتی نگرانی میں محفوظ مقام پر ہیں اور وطن واپسی کے اگلے مرحلے کے لیے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔