اسلام آباد: اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 5 اکتوبر کو جوڈیشل کمپلیکس سے متعلق 2023 کے ایک مقدمے میں سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کو اگلی سماعت پر عدالت کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے ہدایت کی کہ ان کی حاضری ذاتی طور پر یا ویڈیو لنک کے ذریعے یقینی بنائی جائے۔ یہ ایک طریقۂ کار سے متعلق عدالتی حکم ہے اور مقدمے میں لگائے گئے الزامات پر حتمی فیصلہ نہیں ہے۔
اے ٹی سی کے جج طاہر عباس سپرا نے مقدمے کی سماعت کی۔ یہ کیس اس واقعے سے متعلق ہے جب 2023 میں عمران خان مختلف مقدمات میں ضمانت کے لیے اسلام آباد کے جوڈیشل کمپلیکس پہنچے تھے اور وہاں بڑی تعداد میں کارکن اور حامی جمع ہوئے تھے۔ پولیس نے اس واقعے کے بعد متعدد افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا جس میں دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 اور پاکستان پینل کوڈ کی متعلقہ دفعات شامل کی گئی تھیں۔ استغاثہ کی جانب سے سیکیورٹی رکاوٹیں توڑنے، املاک کو نقصان پہنچانے اور عدالتی کارروائی میں خلل ڈالنے جیسے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ ان الزامات کی ذمہ داری کا فیصلہ عدالت نے ابھی نہیں کیا۔
سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ عمران خان اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ جج نے متعلقہ حکام کو حکم دیا کہ اگلی تاریخ پر انہیں عدالت میں پیش کیا جائے یا ویڈیو لنک کے ذریعے ان کی شرکت کا انتظام کیا جائے۔ عدالت نے مقدمے کی اگلی سماعت 5 نومبر مقرر کی ہے۔
اسی کارروائی میں عدالت نے فرخ حبیب، حماد اظہر، مراد سعید اور شبلی فراز کو اشتہاری قرار دیا اور ان کی جائیدادوں سے متعلق تفصیلات طلب کیں۔ عدالت نے سابق پنجاب اسمبلی اسپیکر واثق قیوم عباسی اور پی ٹی آئی رہنما حسن نیازی کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے۔ یہ احکامات مقدمے کی پیش رفت سے متعلق ہیں اور ان افراد کے خلاف الزامات کو ثابت شدہ جرم نہیں سمجھا جا سکتا جب تک متعلقہ عدالتی عمل مکمل نہ ہو۔
عمران خان اگست 2023 سے مختلف مقدمات اور سزاؤں کے سلسلے میں قید ہیں۔ وہ اور ان کی جماعت بعض مقدمات کو سیاسی بنیادوں پر قائم قرار دیتے رہے ہیں، جبکہ ریاستی ادارے عدالتی کارروائی کے ذریعے مقدمات کی پیروی کر رہے ہیں۔ موجودہ سماعت کا بنیادی نکتہ جوڈیشل کمپلیکس کیس میں ملزمان کی حاضری اور آئندہ کارروائی کو آگے بڑھانا تھا۔
اگلی سماعت پر عدالت اس بات کا جائزہ لے گی کہ عمران خان کی پیشی کس طریقے سے یقینی بنائی گئی اور دیگر ملزمان سے متعلق احکامات پر کتنا عمل ہوا۔ مقدمے کے میرٹ، شہادتوں اور ممکنہ ذمہ داری سے متعلق کوئی حتمی نتیجہ اس حکم میں سامنے نہیں آیا۔

