کوئٹہ: وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی اور وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے 29 ستمبر کو جناح پیپلز ٹرین سروس کا باضابطہ افتتاح کر دیا۔ اس منصوبے کو بلوچستان میں شہری اور مضافاتی مسافروں کے لیے سستی، محفوظ اور قابل اعتماد پبلک ٹرانسپورٹ کی فراہمی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا گیا ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق بلوچستان حکومت اور پاکستان ریلوے کے مشترکہ تعاون سے سریاب اور کچلاک کے درمیان 32 کلومیٹر ریلوے ٹریک کو اپ گریڈ اور بحال کیا گیا۔ حکام نے منصوبے کی تخمینی لاگت تقریباً 3 ارب روپے بتائی ہے اور کہا ہے کہ ٹریک کی بحالی اور متعلقہ کام 120 دن کی مدت میں مکمل کیے گئے۔

جناح پیپلز ٹرین کے روٹ میں سات اسٹیشن شامل ہیں: کچلاک، بلیلی، شیخ ماندہ، جی او آر ہالٹ، کوئٹہ، لوراکریز ہالٹ اور سریاب۔ منصوبے کے تحت سریاب اور کچلاک اسٹیشنوں پر نئے ٹرن ٹیبل نصب کیے گئے، متعدد اسٹیشنوں کی عمارتوں اور مسافر سہولیات کو بہتر بنایا گیا، جبکہ جی او آر ہالٹ میں تعمیر نو، شمسی توانائی، برقی کام اور مسافروں کے لیے فرنیچر و بنچوں کی تنصیب بھی کی گئی۔ کوئٹہ اسٹیشن میں بھی اپ گریڈیشن اور لوراکریز اسٹیشن پر تعمیراتی و تکمیلی کام کیے گئے۔

ٹرین کے کوچز پاکستان ریلوے کی کیرج فیکٹری اسلام آباد میں تیار کیے گئے۔ حکام کے مطابق کوچز کی تیاری چار ماہ میں مکمل ہوئی۔ افتتاحی تقریب میں وزیر ریلوے حنیف عباسی نے منصوبے کے لیے بلوچستان حکومت کے تعاون کو سراہا اور کہا کہ صوبوں کے باہمی اشتراک سے ریلوے کے ذریعے عوامی سہولت اور قومی رابطے کو مزید بڑھایا جا سکتا ہے۔

وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے کہا کہ اس سروس سے طلبہ، ملازمین، تاجر، خواتین، بچے، مزدور اور دیگر روزمرہ مسافر مستفید ہوں گے۔ منصوبے کو بلوچستان کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کے ایک نئے مرحلے کے آغاز کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ سروس کے عملی اثرات، یومیہ مسافروں کی تعداد اور مالیاتی کارکردگی کا واضح اندازہ باقاعدہ آپریشن کے بعد سامنے آئے گا، تاہم افتتاح کے ساتھ سریاب سے کچلاک تک بحال شدہ ریلوے رابطہ عوامی استعمال کے لیے متعارف کرا دیا گیا ہے۔