ممبئی: بھارتی ارب پتی مکیش امبانی کی ٹیکنالوجی اور ٹیلی کام کمپنی جیو پلیٹ فارمز کے 3.2 ارب ڈالر کے ابتدائی عوامی حصص کی فروخت کو سرمایہ کاروں کی غیر معمولی طلب کا سامنا ہوا اور عوامی بولی شروع ہونے کے چند گھنٹوں کے اندر دستیاب حصص سے دو گنا سے زیادہ درخواستیں موصول ہو گئیں۔ رائٹرز کے مطابق یہ پیشکش بھارت کی تاریخ کی سب سے بڑی عوامی حصص فروخت میں شمار ہو رہی ہے۔

جیو پلیٹ فارمز ریلائنس انڈسٹریز کے ڈیجیٹل کاروبار کا مرکزی حصہ ہے اور بھارت کی بڑی موبائل اور ڈیجیٹل سروس کمپنیوں میں شامل ہے۔ کمپنی نے کم قیمت موبائل ڈیٹا اور وسیع ٹیلی کام نیٹ ورک کے ذریعے گزشتہ دہائی میں بھارتی انٹرنیٹ مارکیٹ کی ساخت بدلنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کے کاروبار میں ٹیلی کام کے علاوہ ڈیجیٹل خدمات، ایپس اور ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز بھی شامل ہیں۔

آئی پی او میں مضبوط طلب بھارتی سرمایہ منڈی میں بڑے ٹیکنالوجی اثاثوں کے لیے سرمایہ کاروں کی دلچسپی کی عکاسی کرتی ہے۔ ابتدائی چند گھنٹوں میں پیش کردہ حصص سے دو گنا سے زیادہ بولیاں ملنے کا مطلب یہ ہے کہ سرمایہ کار دستیاب مقدار سے کہیں زیادہ حصص خریدنا چاہتے تھے۔ تاہم حتمی الاٹمنٹ اور لسٹنگ کے بعد حصص کی مارکیٹ کارکردگی کا انحصار قیمت، مجموعی مارکیٹ حالات اور کمپنی کی مستقبل کی آمدنی کی توقعات پر ہوگا۔

ریلائنس نے جیو میں ماضی میں متعدد عالمی سرمایہ کاروں کو حصص فروخت کیے تھے، جس سے کمپنی کی قدر اور ڈیجیٹل حکمت عملی پر بین الاقوامی توجہ بڑھی۔ عوامی لسٹنگ کے ذریعے اب وسیع تر سرمایہ کار طبقے کو بھی کمپنی میں براہ راست سرمایہ کاری کا موقع مل رہا ہے۔ یہ اقدام ریلائنس کے مختلف کاروباری یونٹس کی قدر کو الگ طور پر نمایاں کرنے کی طویل مدتی حکمت عملی سے بھی جڑا ہوا ہے۔

بھارت کی ایکویٹی مارکیٹ نے حالیہ برسوں میں بڑے آئی پی اوز اور گھریلو سرمایہ کاری میں اضافہ دیکھا ہے۔ جیو کی پیشکش کا حجم اور ابتدائی طلب اسے اس رجحان کا اہم امتحان بناتے ہیں۔ اگر لسٹنگ کامیاب رہتی ہے تو یہ دیگر بڑی بھارتی ٹیکنالوجی اور صارفین سے متعلق کمپنیوں کے لیے بھی سرمایہ منڈی سے بڑے پیمانے پر فنڈنگ حاصل کرنے کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔