انگلینڈ کے نئے ٹیسٹ کپتان جو روٹ نے پاکستان کے خلاف جاری تین میچوں کی سیریز کے آغاز پر اپنی ٹیم سے کہا ہے کہ وہ ایک ہی انداز پر انحصار کرنے کے بجائے حالات کے مطابق کھیلنے کی صلاحیت دکھائے۔ روٹ دوسری مرتبہ انگلینڈ کی ٹیسٹ قیادت سنبھال رہے ہیں اور ہیڈنگلے میں پاکستان کے خلاف افتتاحی میچ ان کی نئی مدتِ قیادت کا پہلا بڑا امتحان ہے۔
روٹ کے مطابق انگلینڈ کو گزشتہ برسوں میں اختیار کیے گئے جارحانہ طرز کو مکمل طور پر ترک کرنے کی ضرورت نہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ سابق کپتان بین اسٹوکس اور سابق کوچ برینڈن میک کلم کے دور میں بننے والی مثبت بنیادوں کو برقرار رکھا جا سکتا ہے، لیکن چھوٹی حکمتِ عملی تبدیلیاں اہم فرق پیدا کریں گی۔ انہوں نے زور دیا کہ ٹیسٹ کرکٹ کے پانچ دنوں میں حالات مسلسل بدلتے ہیں، اس لیے ٹیم کو کھیل کے بہاؤ، پچ اور میچ کی ضرورت کے مطابق ردِعمل دینا ہوگا۔
روٹ اس سے پہلے 2017 سے 2022 کے درمیان 65 ٹیسٹ میچوں میں انگلینڈ کی کپتانی کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلی مدت کے بعد مختلف کپتانوں اور کوچنگ ماحول میں کھیلنے سے انہیں قیادت کو نئے زاویے سے دیکھنے کا موقع ملا۔ وہ خود کو پہلے کی نسبت مختلف کھلاڑی اور شخص قرار دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ سابقہ تجربہ دوسری مدت میں فیصلے کرنے میں مدد دے گا۔
انگلینڈ نے پاکستان کے خلاف سیریز کے لیے جو روٹ کی قیادت میں جوفرا آرچر، گس اٹکنسن، شعیب بشیر، ہیری بروک، برائڈن کارس، سیم کک، جارڈن کاکس، بین ڈکٹ، میتھیو فشر، ایمیلیو گے، ڈین لارنس، اولی پوپ، اولی رابنسن، جیمی اسمتھ اور جوش ٹنگ پر مشتمل اسکواڈ منتخب کیا ہے۔ میچ کی حتمی الیون پچ اور دستیاب کھلاڑیوں کو دیکھ کر طے کی جاتی ہے۔
سیریز کا پہلا ٹیسٹ 19 سے 23 اگست تک ہیڈنگلے، لیڈز میں جاری ہے۔ دوسرا میچ 27 سے 31 اگست تک لارڈز، لندن اور تیسرا ٹیسٹ 9 سے 13 ستمبر تک ایجبسٹن، برمنگھم میں کھیلا جائے گا۔ یہ سیریز آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ 2025-27 کا حصہ ہے، اس لیے ہر نتیجہ دونوں ٹیموں کے پوائنٹس پر اثر ڈالے گا۔
روٹ کا بیان سیریز کے آغاز پر انگلینڈ کی حکمتِ عملی کی وضاحت ہے، نتیجے یا کارکردگی کی ضمانت نہیں۔ پاکستان کی ٹیم اور میچ کی حقیقی صورتحال ہی طے کرے گی کہ انگلینڈ کا موافق حکمتِ عملی اپنانے کا منصوبہ میدان میں کتنا مؤثر ثابت ہوتا ہے۔




