عمان: جنوبی اردن میں ایک یونانی آرتھوڈوکس چرچ کے احاطے پر مسلح حملے میں کم از کم سات افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے۔ اردنی حکام کے مطابق حملہ صوبہ کراک کے گاؤں حمود میں ہوا، جہاں مسلح افراد چرچ کے کمپاؤنڈ میں داخل ہوئے اور فائرنگ شروع کردی۔ واقعہ اردن میں مسیحی برادری کے خلاف غیر معمولی نوعیت کا مہلک حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق سکیورٹی اداروں نے واقعے کے بعد علاقے میں کارروائی شروع کردی اور زخمیوں کو طبی امداد کے لیے منتقل کیا گیا۔ حکام کی جانب سے ابتدائی طور پر کم از کم سات ہلاکتوں کی تصدیق کی گئی، جبکہ زخمیوں کی تعداد درجنوں میں بتائی گئی ہے۔ ابتدائی اطلاعات میں حملہ آوروں کی مکمل شناخت، ان کی تعداد یا حملے کے حتمی محرک کے بارے میں تفصیلات واضح نہیں کی گئیں، اس لیے ان پہلوؤں کو تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے حتمی طور پر بیان نہیں کیا جا سکتا۔
اردن کے شاہ نے حملے کے بعد سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی کا عزم ظاہر کیا۔ سکیورٹی حکام کے لیے فوری ترجیح حملے کی مکمل نوعیت، حملہ آوروں کے ممکنہ روابط اور یہ معلوم کرنا ہے کہ آیا واقعہ کسی بڑے منظم نیٹ ورک سے منسلک تھا یا نہیں۔ حکام نے جو معلومات جاری کی ہیں، ان میں چرچ کے احاطے کو حملے کا مقام بتایا گیا ہے۔
اردن مسلم اکثریتی ملک ہے جہاں مسیحی برادری طویل عرصے سے ملکی سماجی ڈھانچے کا حصہ رہی ہے۔ اسی لیے عبادت گاہ پر اس نوعیت کا حملہ نہ صرف سکیورٹی بلکہ بین المذاہب ہم آہنگی کے حوالے سے بھی حساس واقعہ ہے۔ تاہم کسی گروہ یا نظریاتی محرک کو ذمہ دار ٹھہرانے کے لیے سرکاری تحقیقات کے نتائج کا انتظار ضروری ہے۔
واقعے کے بعد مقامی اور قومی سطح پر سکیورٹی انتظامات پر توجہ بڑھ گئی ہے۔ زخمیوں کی حالت، حملہ آوروں کے بارے میں مزید معلومات اور ہلاکتوں کی حتمی تعداد حکام کی آئندہ بریفنگز میں واضح ہونے کی توقع ہے۔ فی الحال تصدیق شدہ معلومات یہی ہیں کہ حمود میں یونانی آرتھوڈوکس چرچ کے کمپاؤنڈ پر فائرنگ ہوئی، کم از کم سات افراد جان سے گئے اور متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
