بیجنگ/سیول: شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے ہفتے کو چین کے سرحدی شہر داندونگ کا دورہ کیا اور دونوں ملکوں کے درمیان نئے کھولے گئے پل کے ذریعے سرحد عبور کی۔ چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی شنہوا کے مطابق دورے کے دوران چین کی اعلیٰ قیادت کے نمائندے وانگ ہوننگ بھی ان کے ساتھ تھے، جنہوں نے صدر شی جن پنگ کی جانب سے خیرسگالی کا پیغام پہنچایا۔
رائٹرز کے مطابق یہ سفر ایسے وقت میں ہوا ہے جب بیجنگ اور پیانگ یانگ باہمی تجارت اور اقتصادی رابطوں کو وسعت دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ نئے پل سے گزرنا محض سفارتی علامت نہیں بلکہ سرحد پار نقل و حمل اور تجارت کے لیے بنیادی ڈھانچے کے استعمال کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔ داندونگ طویل عرصے سے چین اور شمالی کوریا کے درمیان تجارت کا اہم زمینی مرکز رہا ہے۔
کم جونگ اُن کا چین جانا دونوں ہمسایہ ملکوں کے سیاسی تعلقات کے ساتھ معاشی تعاون کی اہمیت بھی نمایاں کرتا ہے۔ شمالی کوریا کی بیرونی تجارت میں چین مرکزی کردار رکھتا ہے، جبکہ بیجنگ جزیرہ نما کوریا میں استحکام اور اپنے سرحدی علاقوں میں اقتصادی سرگرمی کو اہم سمجھتا ہے۔ تازہ دورے میں تجارتی روابط کے فروغ کا پیغام نمایاں رہا، تاہم فوری طور پر کسی بڑے نئے تجارتی معاہدے یا مالی پیکیج کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
چینی سرکاری میڈیا کے مطابق وانگ ہوننگ نے شمالی کوریائی رہنما کو صدر شی جن پنگ کی جانب سے مبارکباد اور نیک خواہشات پہنچائیں۔ وانگ چین کی اعلیٰ ترین سیاسی قیادت میں شامل ہیں، اس لیے ان کی موجودگی نے دورے کو اعلیٰ سطحی سفارتی اہمیت دی۔ دونوں ممالک کے تعلقات تاریخی طور پر سکیورٹی، تجارت اور علاقائی سیاست سے جڑے رہے ہیں۔
نئے سرحدی پل کی عملی اہمیت اس بات پر منحصر ہوگی کہ اس کے ذریعے مال برداری، کسٹمز کارروائی اور مسافروں کی نقل و حرکت کس پیمانے پر بڑھتی ہے۔ شمالی کوریا پر بین الاقوامی پابندیوں کی موجودگی کے باعث دونوں ملکوں کی تجارت پر اقوام متحدہ کی متعلقہ پابندیوں اور قومی قوانین کا اطلاق بھی اہم عنصر رہے گا۔
موجودہ دورے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بیجنگ اور پیانگ یانگ سرحدی رابطوں کو زیادہ فعال بنانے کا سیاسی اشارہ دے رہے ہیں۔ تاہم تجارت میں حقیقی اضافے کی مقدار اور نوعیت کا اندازہ آنے والے سرکاری تجارتی اعداد اور سرحدی نقل و حرکت سے ہی ہو سکے گا۔

