عمان: اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے کرک گورنریٹ کے ایک یونانی آرتھوڈوکس چرچ میں مہلک فائرنگ کے بعد سکیورٹی فورسز کو حملہ آوروں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت دی ہے۔ رائٹرز کے مطابق جمعے کو سینٹ جارج یونانی آرتھوڈوکس چرچ میں جنازے کی ایک تقریب کے دوران مسلح افراد نے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں حکام کے تازہ اعداد کے مطابق 9 افراد ہلاک اور 40 زخمی ہوئے۔
حملہ دارالحکومت عمان سے تقریباً 120 کلومیٹر جنوب مغرب میں کرک کے علاقے میں ہوا۔ عینی شاہدین اور چرچ سے وابستہ ایک پادری کے مطابق فائرنگ کئی منٹ تک جاری رہی اور موجود لوگوں کو زمین پر لیٹنے کی ہدایت دی گئی۔ واقعے کے بعد ملک میں مختلف حساس مقامات پر سکیورٹی بڑھا دی گئی، جن میں شاپنگ مراکز اور غیر ملکی سفارت خانے بھی شامل ہیں۔
شاہ عبداللہ نے قومی سلامتی کونسل کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے واقعے کی مذمت کی اور اسے دہشت گردی کی سنگین کارروائی قرار دیا۔ شاہی دربار کے مطابق انہوں نے کہا کہ اردنی شہریوں کی جانوں کے معاملے میں نرمی کی گنجائش نہیں اور ذمہ داروں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی جائے گی۔ سکیورٹی ادارے حملہ آوروں کی تلاش اور واقعے کے محرکات کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اردنی حکام نے ابھی کسی مخصوص تنظیم یا نیٹ ورک کو اس حملے کا ذمہ دار قرار نہیں دیا۔ واقعے کی فوری ذمہ داری بھی کسی گروہ نے قبول نہیں کی، اور حکام کا کہنا ہے کہ اس مرحلے پر یہ طے کرنا قبل از وقت ہوگا کہ حملہ آوروں کا ملک کے اندر یا باہر کسی معروف شدت پسند گروہ سے تعلق تھا یا نہیں۔ اسی لیے حملے کے پس منظر سے متعلق غیر مصدقہ دعوؤں کو حتمی نتیجہ نہیں سمجھا جا سکتا۔
اردن میں مسیحی آبادی اقلیت میں ہے اور ملک میں متعدد ایسے تاریخی و مذہبی مقامات موجود ہیں جہاں دنیا بھر سے مسیحی زائرین آتے ہیں۔ اس نوعیت کے بڑے حملے اردن میں نسبتاً غیر معمولی سمجھے جاتے ہیں، جو خطے میں دیگر ممالک کے مقابلے میں طویل عرصے سے نسبتاً مستحکم رہا ہے۔
مقامی حکام نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے عوام کو یقین دہانی کرانے کی کوشش کی ہے کہ سکیورٹی برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ حملے میں ہلاکتوں کی تعداد ابتدائی اطلاعات کے مقابلے میں بڑھ کر 9 بتائی گئی ہے؛ تحقیقات مکمل ہونے اور مشتبہ افراد کی گرفتاری تک واقعے کے ذمہ داروں اور محرکات کے بارے میں حتمی فیصلہ باقی ہے۔

