کراچی: جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) میں کینسر کا علاج کرانے والے تقریباً ایک چوتھائی مریض علاج کا مکمل کورس جاری نہیں رکھ پاتے۔ یہ بات اسپتال کی زیر اہتمام دو روزہ بریسٹ کون 2026 کانفرنس کے اختتامی روز طبی ماہرین نے بتائی۔ ان کے مطابق جدید امیونوتھراپی اور ٹارگٹڈ علاج کی بلند قیمت اور عطیات کی غیر یقینی دستیابی مریضوں کے لیے بڑی رکاوٹ ہیں۔ یہ شرح کانفرنس میں بیان کردہ اسپتال کی صورتحال سے متعلق ہے، اسے پورے ملک کے کینسر مریضوں کا قومی تخمینہ نہیں سمجھنا چاہیے۔
اسپتال کے شعبہ سرطان کے سربراہ ڈاکٹر غلام حیدر نے بتایا کہ جے پی ایم سی میں سرجری اور ریڈیوتھراپی کی سہولت مفت فراہم کی جاتی ہے، تاہم بہت سے مریضوں کو ایسی ادویات یا انجیکشن کی ضرورت ہوتی ہے جو مہنگے ہیں۔ ان کے مطابق مکمل علاج کی مجموعی لاگت بعض صورتوں میں 30 سے 40 لاکھ روپے تک پہنچ سکتی ہے اور کیموتھراپی کی پیچیدگیوں کے علاج سے اخراجات مزید بڑھ سکتے ہیں۔
ڈاکٹر غلام حیدر کے مطابق مریضوں کے علاج میں مخیر حضرات، خیراتی اداروں اور زکوٰۃ کے وسائل سے مدد ملتی ہے، لیکن یہ سہارا مسلسل اور یکساں میسر نہیں رہتا۔ فنڈ یا دوا کی فراہمی میں وقفہ پڑنے سے علاج متاثر ہوسکتا ہے۔ انہوں نے حکومتی سطح پر مستقل مالی تعاون کی ضرورت پر زور دیا تاکہ مریض محض اخراجات ختم ہونے کی وجہ سے علاج درمیان میں نہ چھوڑیں۔
کانفرنس کی شریک چیئر اور اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر صائمہ ظہور کے مطابق چھاتی کے سرطان کے 60 فیصد سے زیادہ مریضوں کو تشخیص یا علاج شروع ہونے میں تاخیر کا سامنا ہوتا ہے۔ انہوں نے سماجی دباؤ، خوف، غلط تصورات اور اخراجات کو اس کے عوامل قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض خواتین بایوپسی کے بارے میں غلط فہمیوں یا متبادل علاج کی طرف رجوع کرنے کی وجہ سے قیمتی وقت ضائع کردیتی ہیں۔ طبی ماہرین نے غیر معمولی جسمانی تبدیلی کی صورت میں مستند ڈاکٹر سے بروقت مشورہ کرنے کی اہمیت اجاگر کی۔
جے پی ایم سی کی سرجن ڈاکٹر سیدہ زرین رضا نے کہا کہ بعض مریضوں کے لیے چھاتی محفوظ رکھنے والے آپریشن کے امکانات موجود ہوتے ہیں، تاہم علاج سے متعلق ظاہری تبدیلیوں کا خوف بھی رکاوٹ بن سکتا ہے۔ آغا خان یونیورسٹی اسپتال کی ڈاکٹر ثنا ذیشان نے ملک بھر میں چھاتی کے سرطان کے مریضوں کا جامع رجسٹر قائم کرنے کی تجویز دی، تاکہ بیماری کے مراحل، علاج اور نتائج کا قابل اعتماد ریکارڈ جمع کیا جاسکے۔
شوکت خانم اسپتال کے ڈاکٹر نجیب نعمت اللہ نے منظم اسکریننگ اور کم قیمت معیاری ادویات تک رسائی کو ضروری قرار دیا۔ کانفرنس میں یہ مطالبات طبی ماہرین کی سفارشات کے طور پر سامنے آئے ہیں؛ کسی نئے حکومتی مالی پیکیج کی منظوری کی خبر نہیں دی گئی۔ روزنامہ ڈان نے یہ تفصیلات 12 اکتوبر 2026 کو شائع کیں۔
