پشاور/اسلام آباد: خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے اعلان کے بعد پاکستان تحریک انصاف نے دعویٰ کیا ہے کہ پارٹی رہنما سہیل آفریدی اور صوبائی صدر جنید اکبر کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ تاہم پیر 12 اکتوبر کی صبح تک ان شخصیات کی گرفتاری کے بارے میں حکومتی سطح پر واضح تصدیق سامنے نہیں آئی تھی۔ اس لیے معاملے کو ایک سیاسی جماعت کے دعوے اور غیر مصدقہ اطلاعات کے طور پر بیان کرنا ضروری ہے، نہ کہ باضابطہ ثابت شدہ گرفتاری کے طور پر۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق اتوار کو ایمرجنسی کے اعلان کے کچھ ہی وقت بعد پی ٹی آئی رہنماؤں نے کہا کہ اسلام آباد کی طرف احتجاجی مارچ کی قیادت کرنے والے سہیل آفریدی سے رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔ ان کے ساتھی شفیع جان اور رکن قومی اسمبلی شاہد خٹک نے بھی حراست میں لیے جانے کا دعویٰ کیا۔ بعد میں پارٹی نے ایک بیان میں اس مبینہ اقدام کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے مخالفت کی۔
رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے کہا گیا کہ سہیل آفریدی اور جنید اکبر کو مینٹیننس آف پبلک آرڈر کے سیکشن تین کے تحت گھر میں نظربند رکھا گیا تھا، لیکن متعلقہ سرکاری حکام نے اس کی رسمی تصدیق نہیں کی۔ قانونی بنیاد، زیر حراست رکھنے کی جگہ اور کسی باضابطہ مقدمے کی تفصیل نہ ملنے کی وجہ سے ذرائع کی اطلاع اور سرکاری مؤقف میں فرق برقرار ہے۔
پی ٹی آئی کے ترجمان شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ ان رہنماؤں کے بارے میں اطلاعات کو صوبے میں گورنر راج کے فیصلے سے الگ نہیں دیکھا جاسکتا۔ انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ متعلقہ افراد کی حراست کی قانونی بنیاد، الزامات اور طریقہ کار عوام کے سامنے لایا جائے۔ پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے بھی ایک بیان میں کہا کہ پارٹی کو سہیل آفریدی اور جنید اکبر کی موجودگی اور حالت کا علم نہیں۔ پارٹی کے یہ الزامات اس کا سیاسی مؤقف ہیں، کسی عدالتی فیصلے یا آزاد تحقیق کے نتائج نہیں۔
دوسری طرف وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے جیو نیوز سے گفتگو میں کہا کہ امن و امان کے حالات کے پیش نظر بعض افراد کو روکا گیا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ تصدیق نہیں کی کہ سہیل آفریدی ان میں شامل ہیں۔ ان کے مطابق جن افراد کے خلاف مقدمات نہیں ہوں گے انہیں چھوڑ دیا جائے گا جبکہ مطلوب افراد سے قانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔
رابطوں میں رکاوٹ کا مسئلہ بھی سامنے آیا ہے۔ پی ٹی آئی ترجمان کے مطابق بعض علاقوں میں انٹرنیٹ کی بندش کے باعث کارکنوں اور رہنماؤں تک رسائی مشکل ہوئی۔ اس دعوے کی آزادانہ حد بندی رپورٹ میں پیش نہیں کی گئی۔ معاملے میں حتمی وضاحت کے لیے سرکاری حراستی احکامات، متعلقہ شخصیات تک رسائی یا باقاعدہ عدالتی ریکارڈ اہم ہوں گے۔ فی الحال قابل تصدیق خبر یہ ہے کہ پی ٹی آئی نے حراست کے دعوے کیے اور حکومت نے ان افراد کے بارے میں واضح تصدیق فراہم نہیں کی۔
