کوئٹہ: بلوچستان کے ضلع کچھی میں مچھ کے قریب قومی شاہراہ پر اتوار کو تین گاڑیوں کے تصادم کے نتیجے میں سات افراد جان سے گئے اور بیس سے زیادہ زخمی ہوگئے۔ پولیس کے مطابق حادثہ کوئٹہ سے سکھر جانے والی شاہراہ کے ایک تنگ پل پر زمیندار ہوٹل کے قریب پیش آیا جہاں دو مزدا ٹرک اور مسافر وین ٹکرا گئے۔
پولیس نے بتایا کہ حادثے کی اطلاع ملنے کے بعد اہلکار اور امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور جاں بحق افراد کی لاشیں اور زخمیوں کو مچھ کے سول اسپتال منتقل کیا گیا۔ متعدد زخمیوں کی حالت تشویش ناک بتائی گئی، جس کے باعث انہیں بہتر طبی سہولتوں کے لیے کوئٹہ منتقل کرنے کی کوشش کی گئی۔ ہلاکتوں اور زخمیوں کی یہ تعداد حادثے کے بعد پولیس کی فراہم کردہ معلومات پر مبنی ہے؛ بعد میں طبی صورتحال بدلنے کی صورت میں تعداد میں تبدیلی ممکن ہے۔
پولیس کی ابتدائی وضاحت کے مطابق تینوں گاڑیاں ایک ہی وقت میں تنگ پل پر ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کررہی تھیں، جس کے نتیجے میں تصادم ہوا۔ پولیس نے کہا کہ وین میں سوار سات افراد موقع پر ہی ہلاک ہوئے اور ان میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ تاہم واقعے کی مکمل تکنیکی یا عدالتی تحقیق کا نتیجہ رپورٹ میں موجود نہیں، اس لیے ابتدائی پولیس بیان کو کسی ڈرائیور کے خلاف جرم ثابت ہونے کے برابر نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
حادثے کے بعد امدادی کوششوں میں مقامی ایمبولینسوں کی کمی ایک الگ مسئلے کے طور پر سامنے آئی۔ سرکاری ذرائع کے مطابق مچھ کے مقامی اسپتال میں صرف ایک سرکاری ایمبولینس فعال تھی جبکہ دو دیگر گاڑیاں خراب تھیں۔ اس صورتحال نے زخمیوں کو دور واقع بڑے اسپتال منتقل کرنے میں رکاوٹ پیدا کی۔ زخمیوں کو فوری طبی امداد کی ضرورت کے دوران دستیاب ٹرانسپورٹ کی قلت دور دراز علاقوں میں ہنگامی نظام کی عملی مشکلات کو ظاہر کرتی ہے۔
کوئٹہ سکھر قومی شاہراہ پر بھاری گاڑیوں اور مسافر ٹرانسپورٹ کی آمدورفت ہوتی ہے، اس لیے تنگ پلوں پر متبادل راستوں اور محفوظ اوورٹیکنگ کی ضرورت نمایاں رہتی ہے۔ تاہم اس مخصوص واقعے کے بعد کسی نئے ٹریفک قانون، سرکاری انکوائری کی رپورٹ یا تعمیراتی منصوبے کی منظوری کی اطلاع دستیاب نہیں۔
روزنامہ ڈان کی 12 اکتوبر 2026 کی رپورٹ میں پولیس اور امدادی اداروں کے بیانات کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ اس وقت مصدقہ اہم نکات حادثے کی جگہ، تین گاڑیوں کا تصادم، سات اموات، بیس سے زیادہ زخمی اور امدادی منتقلی میں مقامی ایمبولینسوں کی کمی ہیں۔
