اسلام آباد: وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے صوبے کے انتظامی معاملات گورنر کی سربراہی میں قائم مشاورتی کونسل کے ذریعے چلانے کا اعلان کیا ہے۔ ڈان کی 12 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد صدر مملکت نے اس اقدام کی توثیق کی۔ مجوزہ انتظامی بندوبست کے تحت گیارہ ارکان پر مشتمل مشاورتی کونسل میں ٹیکنوکریٹس شامل ہوں گے اور یہ کونسل گورنر کو صوبے کے معاملات چلانے میں معاونت فراہم کرے گی۔
رپورٹ کے مطابق ایمرجنسی کا نفاذ ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، لکی مروت، بنوں، باجوڑ، مہمند، خیبر، کرم، اورکزئی، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان سمیت متعدد اضلاع تک پھیلایا گیا ہے۔ وفاقی کابینہ نے فیصلے کا جواز پیش کرتے ہوئے الزام لگایا کہ صوبائی حکومت نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دانستہ طور پر اپنا کردار محدود رکھا۔ وفاقی وزرا نے تحریک انصاف کی صوبائی قیادت پر بھی سخت الزامات عائد کیے، تاہم ان الزامات کو حکومتی مؤقف کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے؛ دستیاب رپورٹ میں کسی عدالتی فیصلے کے ذریعے ان دعوؤں کی توثیق بیان نہیں کی گئی۔
تحریک انصاف نے فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں امن قائم کرنے کے لیے صوبائی خودمختاری کو کمزور کرنا درست راستہ نہیں۔ اپوزیشن اتحاد اور جمعیت علمائے اسلام سمیت دیگر سیاسی حلقوں نے بھی اقدام کو غیر آئینی قرار دیا اور اعلان کیا کہ وہ اسے عدالتوں، اسمبلیوں اور عوامی فورمز پر چیلنج کریں گے۔ اس ردعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ فیصلے کے قانونی اور سیاسی اثرات پر تنازع جاری رہے گا۔
ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد صوبے میں سکیورٹی انتظامات سخت کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ پولیس کو ممکنہ احتجاجی سرگرمیوں کے پیش نظر چوکس رہنے اور امن و امان برقرار رکھنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ حکام کی جانب سے احتجاج کے دوران طاقت کے استعمال میں احتیاط پر زور دینے کی اطلاعات بھی رپورٹ ہوئی ہیں۔ اس مرحلے پر یہ واضح نہیں کہ نئے انتظامی بندوبست کی مدت کیا ہوگی اور اس کے تحت روزمرہ شہری خدمات، صوبائی محکموں اور منتخب اداروں کے اختیارات کس طرح تقسیم ہوں گے۔
ایمرجنسی کے حامی وفاقی مؤقف کے مطابق فیصلہ سکیورٹی صورتحال اور صوبائی تعاون کے مسئلے سے جڑا ہے، جبکہ مخالفین اسے صوبائی اختیار اور جمہوری نمائندگی کے لیے خطرہ قرار دے رہے ہیں۔ آئندہ پیش رفت میں عدالتی کارروائی، وفاق اور صوبائی سیاسی قیادت کے درمیان رابطے، اور انتظامی فیصلوں کی عملی تفصیلات اہم ہوں گی۔ اس رپورٹ میں دونوں جانب کے مؤقف کو ان کے دعووں کے طور پر بیان کیا گیا ہے؛ کسی حتمی عدالتی فیصلے یا تنازع کے حل کی اطلاع دستیاب ماخذ میں موجود نہیں۔
