کوئٹہ: بلوچستان کے ضلع سبی کے علاقے بھاگ میں نامعلوم افراد کی جانب سے بجلی کی ترسیلی تاریں چوری کیے جانے کے بعد 33 کے وی گنداوہ فیڈر سے منسلک گنداوہ شہر کی بجلی معطل ہو گئی۔ ڈان کی 12 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق چور 24 بجلی کے کھمبوں سے کنڈکٹر تاریں اتار کر لے گئے، جبکہ واردات کے دوران پری اسٹریسڈ کنکریٹ کے تین کھمبوں کو بھی نقصان پہنچا۔ واقعے کے باعث علاقے میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی۔
کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (قیسکو) کے ترجمان افضال بلوچ نے بتایا کہ یہ واقعہ ہفتے کے روز پیش آیا۔ ان کے مطابق کمپنی ابتدائی سروے کرے گی، رپورٹ تیار کی جائے گی اور اس کے بعد چوری اور تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کا مالی تخمینہ لگایا جائے گا۔ دستیاب رپورٹ میں چوری شدہ تاروں کی مقدار، مالی نقصان کی حتمی رقم یا بجلی کی فراہمی بحال ہونے کے متوقع وقت کی تفصیل نہیں دی گئی۔
بجلی کی ترسیلی لائنوں سے کنڈکٹر چوری ہونے کے نتیجے میں صرف تاروں کی مالیت کا نقصان نہیں ہوتا بلکہ مرمت، نئی تنصیبات کی فراہمی اور بجلی کی بحالی کے لیے اضافی انتظامات بھی کرنا پڑتے ہیں۔ کھمبوں کو نقصان پہنچنے سے مرمت کا کام مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے، کیونکہ متعلقہ عملے کو پہلے تنصیبات کا جائزہ لینا اور پھر محفوظ طریقے سے لائن بحال کرنا ہوتی ہے۔ تاہم اس مخصوص واقعے میں مرمت کے لیے درکار مدت اور اخراجات کا تعین قیسکو کے سروے کے بعد ہی ممکن ہوگا۔
فی الحال پولیس کی جانب سے کسی مشتبہ شخص کی گرفتاری، مقدمے کی تفصیل یا چوری میں ملوث افراد کی شناخت کے بارے میں رپورٹ سامنے نہیں آئی۔ اس لیے واردات کے ذمہ داروں یا اس کے محرکات کے بارے میں کوئی حتمی دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔ قیسکو کا ابتدائی سروے نقصان کی نوعیت واضح کرنے کے ساتھ ساتھ مرمت اور بجلی کی بحالی کے لیے درکار اقدامات کی نشاندہی بھی کر سکتا ہے۔
گنداوہ شہر اور فیڈر سے منسلک صارفین کے لیے بجلی کی معطلی روزمرہ زندگی، کاروبار اور مقامی خدمات کو متاثر کر سکتی ہے، تاہم دستیاب ماخذ میں صارفین کی تعداد یا متاثرہ دورانیے کی تصدیق نہیں کی گئی۔ اس مرحلے پر اہم پیش رفت بجلی کی فراہمی کی بحالی، تباہ شدہ کھمبوں اور تاروں کی مرمت، مالی نقصان کے تخمینے اور واقعے کی تحقیقات سے متعلق ہوگی۔ قیسکو کی جانب سے تفصیلی سروے رپورٹ آنے کے بعد نقصان اور بحالی کے منصوبے کے بارے میں مزید معلومات سامنے آ سکتی ہیں۔
