لاہور: ریسکیو 1122 نے مظفرگڑھ کے علاقے روہیلانوالی میں گنگا پتن کے قریب دریائے چناب میں ڈوبنے والے پانچ نوجوانوں کی لاشیں تقریباً 18 گھنٹے کی تلاش کے بعد برآمد کر لیں۔ ڈان کی 12 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق یہ نوجوان پکنک کے لیے دریا کے کنارے گئے تھے۔ پولیس اور ریسکیو حکام کے مطابق نو دوستوں میں سے ایک نوجوان پھسل کر پانی میں جا گرا، جسے بچانے کے لیے چار دیگر نوجوان بھی دریا میں کود گئے۔ پانچوں پانی میں ڈوب گئے جبکہ باقی چار افراد بحفاظت کنارے تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایک زندہ بچ جانے والے دوست نے میڈیا کو بتایا کہ نوجوان آپس میں مٹی اچھال رہے تھے اور ان میں سے ایک مٹی اٹھانے کی کوشش کے دوران پھسل کر دریا میں جا گرا۔ ساتھیوں نے اسے بچانے کی کوشش کی، مگر وہ کامیاب نہ ہو سکے اور چار مزید نوجوان بھی ڈوب گئے۔ اس نوجوان کے مطابق ان میں سے کسی کو تیرنا نہیں آتا تھا۔ ایک ریسکیو اہلکار نے ڈان کو بتایا کہ یہ نوجوان اس پکنک مقام پر پہلے بھی آتے تھے اور وہاں ٹک ٹاک ویڈیوز بناتے تھے۔ تاہم واقعے کے عین وقت ویڈیو بنائے جانے سے متعلق بات کو ابتدائی اطلاعات اور اہلکار کے بیان کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔
ریسکیو 1122 کی ٹیموں نے ضلع ایمرجنسی افسر عبیداللہ خان کی قیادت میں تلاش کا کام جاری رکھا۔ حکام کے مطابق کارروائی میں 42 ریسکیورز شریک ہوئے، جن میں 13 تیراک اور 12 غوطہ خور شامل تھے، جبکہ چار ریسکیو کشتیاں استعمال کی گئیں۔ تلاش کے دوران کشتیوں کی مدد سے لاشیں نکالی گئیں۔ حکام نے بتایا کہ اس مقام پر دریا کی گہرائی تقریباً 35 سے 40 فٹ تھی اور پانی کا بہاؤ 5,000 سے 6,000 کیوسک کے درمیان تھا، جس نے سرچ آپریشن کو مشکل بنا دیا۔
پانچوں نوجوانوں کی لاشیں قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد اہل خانہ کے حوالے کر دی گئیں۔ دستیاب رپورٹ میں نوجوانوں کے نام محمد علی، رانا عثمان، ملک احمد، عبدالرحمٰن اور محمد مکی بتائے گئے ہیں۔ واقعے کے بعد متاثرہ خاندانوں کو شدید صدمے کا سامنا ہے، جبکہ اس سانحے نے دریا کے کنارے تفریح کے دوران حفاظتی احتیاطوں کی اہمیت بھی نمایاں کی ہے۔
تیز بہاؤ اور زیادہ گہرائی والے دریا میں کسی شخص کے پھسل کر گرنے کی صورت میں اسے بچانے کے لیے غیر تربیت یافتہ افراد کا پانی میں کودنا خود ان کی جان کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ ایسے حالات میں فوری طور پر ریسکیو اداروں کو اطلاع دینا اور تربیت یافتہ امدادی اہلکاروں کی مدد حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اس واقعے میں دستیاب معلومات کے مطابق چار نوجوان اپنے ساتھی کو بچانے کی کوشش میں پانی میں اترے اور خود بھی ڈوب گئے۔ ریسکیو حکام نے تلاش کے دوران متعدد غوطہ خوروں، تیراکوں اور کشتیوں کی مدد لی۔ کسی اضافی قانونی کارروائی یا مزید تفتیشی نتیجے کی تفصیل دستیاب ماخذ میں شامل نہیں۔
