کراچی: بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) ریڈ لائن منصوبے کے نمائش سے موسمیات تک 12.8 کلومیٹر طویل حصے پر کام دوبارہ شروع ہونے کی راہ ہموار ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ڈان کی 12 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق اس حصے کے لیے تاخیر کا شکار ٹھیکے کی بولی کا ابتدائی مرحلہ مکمل ہو چکا ہے، جبکہ متعلقہ حکام کو توقع ہے کہ بولیوں کی جانچ، مختصر فہرست کی تیاری اور معاہدے کے اجرا کا عمل تقریباً چار ہفتوں میں مکمل کر لیا جائے گا۔

یہ حصہ منصوبے کے لاٹ ٹو کے طور پر جانا جاتا ہے۔ سندھ حکومت نے اپریل میں سابق ٹھیکیدار کے کام میں تاخیر کے خدشات کے باعث اس کا معاہدہ منسوخ کر دیا تھا۔ اس کے بعد سے تقریباً چھ ماہ تک کام رکا رہا، جبکہ یونیورسٹی روڈ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں مسافروں اور رہائشیوں کو تعمیراتی رکاوٹوں کا سامنا رہا۔ ٹرانس کراچی، جو منصوبے پر عمل درآمد کرنے والا ادارہ ہے، نے بتایا کہ لاٹ ٹو کے لیے بولیاں 8 اکتوبر کو جمع کرائی گئیں اور اب ان کا جائزہ لیا جائے گا۔

رپورٹ کے مطابق لاٹ ٹو کے کام میں بلند یوٹرن، فلائی اوور، انڈر پاس اور بی آر ٹی لینز سمیت مختلف ساختی تعمیرات شامل ہیں، جبکہ اس حصے میں 16 اسٹیشن بھی منصوبے کا حصہ ہیں۔ ٹرانس کراچی کے ترجمان کے مطابق بولی کا عمل ایشیائی ترقیاتی بینک کے طے شدہ طریقہ کار کے تحت آگے بڑھایا گیا۔ ادارے کے ایک اہلکار نے چھ ماہ کے وقفے کو تاخیر قرار دینے کے بجائے مالی معاون ادارے کے رہنما اصولوں کے مطابق مکمل ہونے والا عمل بتایا۔ تاہم منصوبے کی طویل بندش کے باعث شہریوں پر پڑنے والے اثرات بدستور اہم مسئلہ ہیں۔

ریڈ لائن منصوبے کا ایک اور حصہ، لاٹ ون، ملیر ہالٹ سے موسمیات تک 9.4 کلومیٹر پر مشتمل ہے اور اس پر کام جاری بتایا گیا ہے۔ اس میں انڈر پاس، فلائی اوور، بلند یوٹرن، چھ اسٹیشن اور دو ڈپو شامل ہیں۔ حکام کے مطابق لاٹ ون کے مرکزی کوریڈور کی تکمیل دسمبر 2026 تک متوقع ہے، جبکہ ملیر ہالٹ تک کے حصے کے لیے اپریل 2027 اور باغِ کراچی کے حصے کے لیے جولائی 2027 کی تاریخیں دی گئی ہیں۔ یہ اہداف مقررہ منصوبہ بندی ہیں؛ ان کی بروقت تکمیل کا انحصار تعمیراتی پیش رفت اور دیگر انتظامی عوامل پر ہوگا۔

ڈان کے مطابق یونیورسٹی روڈ پر منصوبے کے ایک بلند ڈھانچے کے گرنے سے ایک شخص کی ہلاکت کے بعد بند کام پر سوالات مزید نمایاں ہوئے تھے۔ ٹرانس کراچی نے اس واقعے کے بعد بتایا تھا کہ سابق معاہدہ اپریل میں منسوخ ہونے کے بعد متعلقہ مقامات پر کام رکا ہوا تھا۔ تازہ پیش رفت کے باوجود یہ سوال برقرار ہے کہ نئی بولی اور معاہدے کے بعد تعمیراتی کام کس رفتار سے آگے بڑھے گا اور شہر میں طویل عرصے سے جاری ٹریفک مشکلات کب کم ہوں گی۔ حکام نے لاٹ ٹو کے لیے ٹھیکہ ملنے کے بعد 18 ماہ کی تکمیلی مدت مقرر کرنے کی بات کی ہے، جبکہ منصوبے کے اس حصے کی تکمیل کا مجموعی ہدف جون 2028 بتایا گیا ہے۔