اورماڑہ کے قریب بحیرہ عرب میں گرنے والے K2 Airways کے کارگو طیارے کے بلیک باکس، ملبے اور کاک پٹ عملے کی تلاش ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے، جہاں پاکستان گہرے سمندر میں سرچ اور ریکوری کی خصوصی مہارت رکھنے والے غیر ملکی ماہرین اور بین الاقوامی کمپنیوں سے رابطے کر رہا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق طیارے کے ممکنہ ملبے کی گہرائی تقریباً 3,000 میٹر بتائی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے عام سرچ آلات کے بجائے جدید زیر آب ٹیکنالوجی درکار ہے۔
K2 Airways کا بوئنگ 737 کارگو طیارہ 7 جولائی 2026 کو اورماڑہ کے قریب خراب حالات کا سامنا کرنے کے بعد سمندر میں گر گیا تھا۔ حادثے کے بعد بلیک باکس کا ٹرانسمیٹر بیکن محدود مدت تک سگنل دیتا رہا، لیکن تقریباً ایک ماہ بعد اس کے سگنلز بند ہوگئے، جس سے تلاش مزید مشکل ہوگئی۔ بلیک باکس اور ملبے کی بازیابی حادثے کے آخری لمحات اور ممکنہ وجوہات کے تعین کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہے، تاہم حادثے کی حتمی وجہ تفتیش مکمل ہونے سے پہلے طے نہیں کی جاسکتی۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان نیوی نے پہلے خصوصی آلات اور سائیڈ اسکین سونار استعمال کرتے ہوئے سمندر کی تہہ پر بلیک باکس کے ممکنہ مقام کی نشاندہی کی تھی۔ اب مزید پیش رفت کے لیے زیادہ جدید ڈیپ سی ٹیکنالوجی اور ریکوری ماہرین کی ضرورت بتائی گئی ہے۔ مجوزہ کارروائی میں ملٹی بیم ایکو ساؤنڈر کے ذریعے سمندر کی تہہ کا تفصیلی سہ جہتی نقشہ تیار کیا جاسکتا ہے تاکہ گہرائی، زیر آب ساخت اور ممکنہ رکاوٹوں کا تعین ہو۔
تلاش میں خودکار زیر آب گاڑیاں بھی استعمال ہونے کا امکان ہے، جو سونار، کیمروں اور مختلف سینسرز کے ذریعے سمندر کی تہہ کا سروے کرسکتی ہیں۔ اسی طرح ریموٹلی آپریٹڈ وہیکلز کو سپورٹ جہاز سے کنٹرول کرکے مشتبہ ملبے کا قریب سے معائنہ، ہائی ڈیفینیشن تصاویر اور بعض چھوٹی اشیا کی بازیابی کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
حکام کی جانب سے ابھی کسی غیر ملکی کمپنی کے حتمی انتخاب، آپریشن کی آغاز تاریخ یا بلیک باکس کی یقینی جگہ کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔ اس مرحلے پر پیش رفت کا بنیادی نکتہ بین الاقوامی تکنیکی معاونت حاصل کرنے کی کوشش اور گہرے سمندر کی تلاش کے لیے جدید آلات کے ممکنہ استعمال کا منصوبہ ہے۔

