اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی دارالحکومت کے علاقے کُری میں دانش اسکول کا افتتاح کرتے ہوئے ملک میں تعلیم اور صحت کے مواقع میں موجود تفاوت کم کرنے پر زور دیا ہے۔ افتتاحی تقریب سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کے بانی قائداعظم محمد علی جناح کے تصور کے مطابق ریاست میں انصاف، میرٹ اور شہریوں کے لیے یکساں مواقع بنیادی اہمیت رکھتے ہیں، اور ان اہداف کے حصول کے لیے معیاری تعلیم تک وسیع رسائی ناگزیر ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے مختلف علاقوں، جن میں خیبر پختونخوا، بلوچستان، سندھ، پنجاب، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان شامل ہیں، سے تعلق رکھنے والے باصلاحیت بچوں کو ان کے خاندان کی مالی حیثیت کی وجہ سے اچھی تعلیم سے محروم نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق ملک میں ایک طرف ایسے خاندان موجود ہیں جو بچوں کو مہنگے ملکی یا غیر ملکی تعلیمی اداروں میں بھیج سکتے ہیں، جبکہ دوسری طرف کم آمدن گھرانوں کے ذہین طلبہ کے لیے بنیادی معیاری تعلیم تک رسائی بھی مشکل ہو سکتی ہے۔
شہباز شریف نے دانش اسکول نظام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام کا مقصد پسماندہ اور کم وسائل رکھنے والے گھرانوں کے بچوں کو بہتر تعلیمی ماحول فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں قائم انڈومنٹ فنڈ کو اب پاکستان انڈومنٹ فنڈ کی شکل دی گئی ہے تاکہ تعلیمی معاونت کا دائرہ ملک بھر تک بڑھایا جا سکے۔
وزیراعظم نے تقریب میں موجود طلبہ کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ مشکلات کے باوجود تعلیم جاری رکھنے والے نوجوان اس بات کا ثبوت ہیں کہ مناسب مواقع ملنے پر کم وسائل رکھنے والے بچے بھی نمایاں کامیابیاں حاصل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے اساتذہ، طلبہ اور متعلقہ حکام سے کہا کہ تعلیم کو صرف نصابی کامیابی تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ تحقیق، سوال اٹھانے کی صلاحیت، محنت اور کردار سازی کو بھی اہمیت دی جائے۔
تقریب میں وفاقی وزرا، ارکان پارلیمان، سفارت کار، سرکاری حکام، اساتذہ اور طلبہ شریک ہوئے۔ وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ دانش اسکولوں سے فارغ التحصیل نوجوان اپنی ذاتی زندگی بہتر بنانے کے ساتھ ملک کی سماجی اور معاشی ترقی میں بھی کردار ادا کریں گے۔
حکومت کی جانب سے دانش اسکولوں اور انڈومنٹ فنڈ کو قومی سطح پر وسعت دینے کا مؤقف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان میں سرکاری و نجی تعلیمی نظام کے معیار، اسکول سے باہر بچوں کی تعداد اور کم آمدن گھرانوں کے لیے اعلیٰ تعلیم کی لاگت پر مسلسل بحث جاری ہے۔ وزیراعظم کی تقریر میں کسی نئے ملک گیر مالی ہدف یا فوری بجٹ اضافے کا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم انہوں نے مساوی تعلیمی مواقع کو حکومت کی ترجیح قرار دیا۔

