کوئٹہ: بلوچستان کے ضلع کچھی کے سنی علاقے میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائی کی، جس میں سکیورٹی ذرائع کے مطابق چھ مبینہ دہشت گرد مارے گئے۔ سرکاری نشریاتی ادارے ریڈیو پاکستان کا حوالہ دیتے ہوئے ایکسپریس ٹریبیون اور دیگر مقامی میڈیا نے بتایا کہ کارروائی میں اہداف کو کواڈ کاپٹرز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔

رپورٹس کے مطابق کارروائی کے بعد موقع سے بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد ہونے کا دعویٰ کیا گیا، جبکہ علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری رکھا گیا تاکہ کسی ممکنہ باقی ماندہ مسلح عنصر کی موجودگی کا جائزہ لیا جا سکے۔ ہلاک ہونے والوں کی شناخت یا ان کے خلاف مخصوص مقدمات اور سابقہ کارروائیوں کی تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کی گئیں۔

سکیورٹی ذرائع نے ہلاک افراد کو ریاستی اصطلاح ’’فتنہ الہندوستان‘‘ سے منسلک قرار دیا۔ یہ اصطلاح پاکستانی حکام بلوچستان میں سرگرم بعض کالعدم مسلح گروہوں کے لیے استعمال کرتے ہیں اور ان کے بیرونی روابط سے متعلق الزامات عائد کرتے ہیں۔ ان الزامات کی نوعیت سیاسی اور سکیورٹی اعتبار سے حساس ہے، اس لیے رپورٹ میں انہیں سرکاری مؤقف کے طور پر ہی بیان کیا جا رہا ہے۔

تازہ کارروائی ایسے وقت ہوئی ہے جب بلوچستان کے مختلف اضلاع میں گزشتہ کئی ہفتوں سے انٹیلی جنس بیسڈ اور کلیئرنس آپریشنز کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ کچھی، پانجگور، چاغی، مستونگ اور دیگر علاقوں میں بھی سکیورٹی فورسز نے حالیہ کارروائیوں میں مسلح افراد کو ہلاک کرنے اور اسلحہ برآمد کرنے کے دعوے کیے ہیں۔ ہر واقعے کی آزادانہ تفصیلات ہمیشہ فوری طور پر دستیاب نہیں ہوتیں۔

ایکسپریس ٹریبیون کی یکم اکتوبر کی رپورٹ میں کہا گیا کہ سنی کے علاقے میں چھ افراد کو کواڈ کاپٹرز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا اور کلیئرنس کارروائی جاری ہے۔ دی نیشن نے بھی سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے اسی واقعے اور چھ ہلاکتوں کی اطلاع دی۔ تاہم اس واقعے کے بارے میں آئی ایس پی آر کی تفصیلی باضابطہ پریس ریلیز فوری طور پر دستیاب نہیں تھی، اس لیے ہلاکتوں کی تعداد اور آپریشن کی عملی تفصیلات سکیورٹی ذرائع سے منسوب ہیں۔

بلوچستان میں دہشت گردی اور انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں طویل عرصے سے اہم سکیورٹی مسئلہ ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ فورسز ’’عزمِ استحکام‘‘ کے تحت شدت پسند نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں گی۔ اس تازہ واقعے میں فی الحال کسی سکیورٹی اہلکار یا عام شہری کے جانی نقصان کی اطلاع ان ابتدائی رپورٹس میں نہیں دی گئی۔