کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی کا منصوبہ ایک بار پھر صوبائی حکومت کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ شہر کے اس اہم عوامی نقل و حمل کے منصوبے کو بہت پہلے فعال ہوجانا چاہیے تھا، لیکن مختلف ادوار میں فیصلہ سازی اور مالی معاونت کے مسائل کے باعث کام آگے نہیں بڑھ سکا۔

ڈان کی 11 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ نے ہفتے کے روز سکھر ایئرپورٹ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چینی حکام نے ماضی میں منصوبے کے لیے تعاون کی یقین دہانی کرائی تھی، تاہم ایک سابق وفاقی حکومت کے دور میں اسے ترجیح نہیں دی گئی۔ ان کے بقول صوبے کو وفاق کی جانب سے اس منصوبے کے لیے درکار مدد بھی نہیں مل سکی۔ یہ مؤقف صوبائی حکومت کا ہے؛ متعلقہ وفاقی اداروں کا تفصیلی ردعمل اس رپورٹ میں سامنے نہیں آیا۔

سرکلر ریلوے کو دسمبر 2016 میں سندھ حکومت کی درخواست پر چین پاکستان اقتصادی راہداری کے منصوبوں میں شامل کیا گیا تھا۔ بعد میں تحریک انصاف کے دور حکومت میں اسے نجی شعبے کی شراکت سے تعمیر، انتظام اور منتقلی کے ماڈل پر آگے بڑھانے کا فیصلہ ہوا، جبکہ اس کے بعد کی اتحادی حکومت نے دوبارہ چینی سرمایہ کاری کا راستہ اختیار کرنے کی کوشش کی۔ بدلتی حکمت عملی کے باوجود عملی پیش رفت میں رکاوٹیں برقرار رہیں۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت مالی اور انتظامی مشکلات کے باوجود ترقیاتی کام جاری رکھے گی۔ ان کے مطابق وہ پانچ روزہ سرکاری دورے پر چین روانہ ہورہے ہیں، جہاں انفراسٹرکچر سمیت مختلف شعبوں میں تعاون پر بات چیت ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ کابینہ کی منظوری حاصل کرنے والے پندرہ صوبائی منصوبوں کے سلسلے میں مفاہمتی یادداشتوں پر پیش رفت کی کوشش کی جائے گی۔ ان شعبوں میں کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور مصنوعی ذہانت بھی شامل ہیں۔

کراچی سرکلر ریلوے شہری آمدورفت کے دیرینہ مسائل سے متعلق ایک اہم تجویز ہے۔ تاہم تازہ بیان سے منصوبے کی تکمیل کی کوئی نئی حتمی تاریخ یا منظور شدہ مالیاتی بندوبست سامنے نہیں آیا۔ اس لیے اسے منصوبے کی بحالی کا اعلان نہیں بلکہ تاخیر پر صوبائی سطح پر اٹھایا گیا سوال اور مستقبل کے تعاون کی کوشش سمجھنا چاہیے۔