کراچی: دہلی گورنمنٹ اسکول کے گرلز کیمپس میں ایک روز کے تعطل کے بعد تدریسی عمل بحال ہوگیا ہے، تاہم بوائز کیمپس کو ایک ہفتے کے لیے بند کردیا گیا ہے اور اس کے طلبہ کے لیے متبادل تدریسی انتظام ابھی حتمی نہیں۔ ایکسپریس اردو کی رپورٹ کے مطابق طالبات کلاسوں میں واپس پہنچیں اور اساتذہ نے تدریس شروع کی، اگرچہ حاضری معمول سے کم رہی۔

گرلز کیمپس کا کھلنا پورے اسکول تنازع کے حل کے مترادف نہیں۔ بوائز اسکول کے پرنسپل علی خان میر جٹ کے مطابق متعلقہ فریق نے بوائز کیمپس کا کنٹرول سنبھال لیا ہے اور طلبہ کو ایک ہفتے کی چھٹی دی گئی ہے۔ رپورٹ میں بوائز کیمپس کے طلبہ کی تعداد تقریباً 700 اور گرلز کیمپس کی طالبات کی تعداد تقریباً 2,200 بتائی گئی ہے، اس لیے عارضی بندش کا اثر بڑی تعداد میں خاندانوں پر پڑتا ہے۔

پرنسپل نے کہا کہ اگر محکمہ تعلیم ہدایت دے تو بوائز کیمپس کے طلبہ کو عارضی طور پر گرلز کیمپس میں منتقل کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ یہ فی الحال ایک ممکنہ انتظام ہے، منظور شدہ حتمی منصوبہ نہیں۔ دستیاب رپورٹ کے مطابق کچھ طلبہ اپنے کیمپس کے باہر موجود تھے، لیکن ان کی تدریس دوبارہ شروع کرنے کے طریقہ کار پر فیصلہ نہیں ہوسکا تھا۔

گرلز اسکول کی پرنسپل عرفانہ نے بتایا کہ عمارت عارضی طور پر چند روز کے لیے فراہم کی گئی ہے اور مقدمے کی آئندہ سماعت 7 ستمبر کو ہوگی۔ اس بیان سے واضح ہے کہ گرلز کیمپس میں موجودہ بحالی بھی عبوری انتظام کے تحت ہے۔ عدالت یا متعلقہ فریقوں کے اگلے فیصلے کے بعد عمارت کے استعمال اور دونوں کیمپس کے انتظام میں مزید تبدیلی آ سکتی ہے۔

اسکول کمپلیکس کو طویل عرصے سے ملکیت اور قبضے کے تنازع کا سامنا ہے۔ ڈان کی پہلے شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق 29 اگست کو عدالتی بیلف کے ذریعے کمپلیکس سیل ہونے کے بعد طلبہ اور اساتذہ نے سڑک پر علامتی اسمبلی بھی منعقد کی تھی۔ تازہ پیش رفت میں کم از کم گرلز کیمپس کی کلاسیں بحال ہوئی ہیں، مگر بوائز کیمپس کا تعلیمی تعطل برقرار ہے۔

والدین اور طلبہ کے لیے اگلے اہم نکات محکمہ تعلیم کی تحریری ہدایت، بوائز طلبہ کے عارضی مقام کا فیصلہ اور 7 ستمبر کی عدالتی سماعت ہیں۔ فی الحال درست صورت حال یہ ہے کہ گرلز کیمپس کھلا ہے، بوائز کیمپس ایک ہفتے کے لیے بند ہے اور 700 طلبہ کے لیے متبادل تدریسی انتظام کی تصدیق نہیں ہوئی۔ تنازع کے ملکیتی حق یا مستقل کنٹرول کا حتمی نتیجہ ابھی زیر التوا ہے۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک